سنسد چلو‘ احتجاج کی این آئی اے جانچ کی مانگ ،عرضی پر ہائی کورٹ کرے گی سماعت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-07-2026
 سنسد چلو‘ احتجاج کی این آئی اے جانچ کی مانگ ،عرضی پر ہائی کورٹ کرے گی سماعت
سنسد چلو‘ احتجاج کی این آئی اے جانچ کی مانگ ،عرضی پر ہائی کورٹ کرے گی سماعت

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مبینہ نیٹ پرچہ لیک معاملے پر 20 جولائی کو نکالے گئے "سنسد چلو" احتجاج کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے جانچ کرانے کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر جمعہ کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے درج تمام ایف آئی آر ایک خصوصی تفتیشی ایجنسی کو منتقل کی جائیں اور مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اس معاملے کا ذکر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے کیا گیا۔ عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل برون کمار سنہا نے عدالت سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو کل ہی سنا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے معاملہ جمعہ کے لیے درج کر دیا۔

یہ مفاد عامہ کی عرضی اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے سابق نائب صدر ستیش کمار اگروال نے وکلا سنیہ وردھن اور پرتیبھا سنہا کے ذریعے دائر کی ہے۔اس معاملے میں مرکزی حکومت۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی۔ مرکزی جانچ بیورو۔ دہلی پولیس کمشنر اور حکومت دہلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

عرضی کے مطابق مبینہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج 6 جون 2026 کو جنتر منتر سے شروع ہوا تھا اور 20 جولائی کو "سنسد چلو" مارچ کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچا۔ عرضی گزار کا الزام ہے کہ یہ احتجاج بعد میں پرتشدد ہو گیا جس کے دوران پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ صحافیوں پر حملے کیے گئے۔ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ہنگامی خدمات میں رکاوٹ ڈالی گئی اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی گئی۔

عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ 20 جولائی کے واقعے کی جانچ این آئی اے یا کسی دوسری خصوصی تفتیشی ایجنسی سے کرائی جائے۔ اس میں پارلیمنٹ کے علاقے میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کی بھی تحقیقات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کی جانب سے درج تمام ایف آئی آر بھی اسی ایجنسی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت متعلقہ حکام کو ہدایت دے کہ تشدد۔ توڑ پھوڑ۔ ہنگامی خدمات میں رکاوٹ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تمام افراد کی شناخت کی جائے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں ایف آئی آر درج کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ نیٹ امتحان کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج بعد میں سیاسی رہنماؤں اور دیگر گروپوں کے اثر میں آ گیا تھا۔عرضی میں غیر ملکی فنڈنگ اور بعض کارکنوں اور تنظیموں کے مبینہ کردار کے بارے میں بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور ان پہلوؤں کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج آئینی حق ضرور ہے لیکن اسے تشدد۔ املاک کو نقصان پہنچانے یا امن عامہ اور قومی سلامتی کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کی آڑ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔