نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو فوری طور پر صفدر جنگ اسپتال سے ان کی پسند کے نجی اسپتال میڈانٹا منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ وہاں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ طبی ہدایات اور علاج کے طریقۂ کار پر مکمل عمل کریں۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ مرکزی حکومت کو وانگچک کو میڈانٹا منتقل کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سونم وانگچک کو فوری طور پر میڈانٹا اسپتال منتقل کیا جائے۔
ہائی کورٹ نے میڈانٹا اسپتال کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ وہ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیں جو وانگچک کے علاج کی نگرانی کرے اور تسلیم شدہ طبی اصولوں اور علاج کے ضابطوں کے مطابق انہیں دوا اور طبی سہولت فراہم کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وانگچک اسپتال کی طبی ٹیم کی تمام ہدایات اور مشوروں پر عمل کریں گے۔
عدالت نے یہ حکم طبی رپورٹوں کا جائزہ لینے، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، صفدر جنگ اسپتال اور وانگچک کے معالجین سے بات چیت کے بعد جاری کیا۔ تمام ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ وانگچک کو مسلسل اسپتال میں طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔
سماعت کے دوران گیتانجلی انگمو کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اکھل سبل نے عدالت کو بتایا کہ وانگچک کی جسمانی علامات مستحکم ہیں اور وہ بھوک ہڑتال جاری رکھتے ہوئے منہ کے ذریعے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے والا محلول استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے سونم وانگچک کا ایک خط بھی عدالت کے سامنے رکھا، جس میں وانگچک نے الزام لگایا تھا کہ صفدر جنگ اسپتال میں انہیں پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عدالت نے کہا کہ وانگچک کے خط میں اٹھائے گئے خدشات بھی قابل غور ہیں، تاہم انہیں ڈاکٹروں کی اس متفقہ رائے کے ساتھ متوازن کرنا ضروری ہے کہ ان کی مسلسل طبی نگرانی ناگزیر ہے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت کو وانگچک کو میڈانٹا منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک معروف اسپتال ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ وانگچک مسلسل طبی نگرانی میں رہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف اسپتال نہ چھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک کو اسپتال سے کب رخصت کیا جائے، اس کا فیصلہ صرف میڈانٹا کے ڈاکٹر کریں گے، نہ کہ خود وانگچک۔
عدالت نے اس مؤقف کو قبول کرتے ہوئے فوری منتقلی کا حکم دیا اور یہ بھی ہدایت دی کہ صفدر جنگ اسپتال میں تیار کیے گئے تمام طبی ریکارڈ، جانچ رپورٹس اور علاج سے متعلق دستاویزات میڈانٹا اسپتال کو فراہم کی جائیں تاکہ علاج کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
ان ہدایات کے ساتھ ہی ڈویژن بنچ نے اس اپیل کو نمٹا دیا جو سنگل جج کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے ان کی پسند کے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
سونم وانگچک 28 جون سے نیٹ۔یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ دہلی پولیس انہیں گزشتہ ہفتے ہفتہ کی صبح صفدر جنگ اسپتال لے گئی تھی۔