دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی عبدالرشید شیخ کو ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 28-04-2026
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی عبدالرشید شیخ کو ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی
دہلی ہائی کورٹ نے ایم پی عبدالرشید شیخ کو ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی

 



نئی دہلی
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز بارہ مولہ کے رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شیخ کو ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دے دی، جنہوں نے اپنے بیمار والد سے ملاقات کے لیے ضمانت کی درخواست کی تھی۔ ان کے والد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے انہیں ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ضمانتی کے عوض عبوری ضمانت دی۔عبوری ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے شرائط عائد کیں کہ وہ صرف اسی اسپتال میں رہیں گے جہاں ان کے والد زیر علاج ہیں، وہ اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی سے ملاقات نہیں کریں گے، اور اپنا موبائل فون بند نہیں رکھیں گے بلکہ آن رکھیں گے۔ ان کے ساتھ دو اہلکار تعینات ہوں گے جن کا خرچ این آئی اے برداشت کرے گی۔ انہیں ایک ہفتے بعد سرنڈر کرنا ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شیخ ایک رکن پارلیمنٹ ہیں اور انہیں اس سے پہلے انتخابی نامزدگی داخل کرنے اور انتخابی مہم کے لیے بھی عبوری ضمانت دی جا چکی ہے۔ انہیں پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے لیے کسٹڈی پیرول بھی دیا گیا تھا۔
عبدالرشید شیخ کی جانب سے سینئر وکیل این ہریہارن اور ایڈووکیٹ وکھیات اوبرائے پیش ہوئے۔جبکہ سینئر وکیل سدھارتھ لتھرا اور خصوصی پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) اکشے ملک نے عبوری ضمانت کی مخالفت کی۔این آئی اے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں عبوری ضمانت دی گئی تو گواہوں پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے، اور ایک گواہ پہلے ہی منحرف ہو چکا ہے۔
این آئی اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر انہیں کسٹڈی پیرول دیا جائے تو ادارے کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تاہم بینچ نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔ٹرائل کورٹ نے بھی ان کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔شیخ اس وقت این آئی اے کے دہشت گردی کی فنڈنگ کے کیس میں زیر حراست ہیں۔ انہیں 19 اگست 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے اس سے قبل بھی بارہ مولہ کے رکن پارلیمنٹ کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس میں انہوں نے اپنے بیمار والد سے ملاقات کی اجازت مانگی تھی، جو وینٹی لیٹر پر ہیں۔
خصوصی جج (این آئی اے) پرشانت شرما نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کر دی تھی۔این آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر گوتم کھزانچی نے ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر عبوری ضمانت کی مخالفت کی تھی۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ رشید کو کسٹڈی پیرول دیا جا سکتا ہے، اور ایجنسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ایڈووکیٹ وکھیات اوبرائے نے این آئی اے کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ رپورٹ اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک اسے ملزم کو فراہم نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس رپورٹ کے حقائق کی تردید کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عبدالرشید شیخ کے والد وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل شیخ کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی، لیکن اب ان کے والد کی شدید بیماری کے باوجود ضمانت کی مخالفت کی جا رہی ہے۔20 اپریل کو عدالت نے این آئی اے کو بارہ مولہ کے رکن پارلیمنٹ شیخ کی اس درخواست پر جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیا تھا جس میں انہوں نے اپنے بیمار والد سے ملاقات کے لیے عبوری ضمانت طلب کی تھی۔