نئی دہلی
دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خورم پرویز کو دہشت گردی کی مبینہ سازش کے ایک مقدمے میں ضمانت دے دی، جس کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کر رہی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تقریباً ساڑھے چار سال کی طویل قید اور ٹرائل کی سست رفتاری کے پیش نظر ان کی رہائی ضروری ہے، اگرچہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت پر سخت پابندیاں موجود ہیں۔
جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دیودیا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 13 دسمبر 2024 کے اسپیشل کورٹ (پٹیالہ ہاؤس) کے اس حکم کے خلاف اپیل منظور کی جس میں ان کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔یہ کیس نومبر 2021 میں این آئی اے کی اس تحقیقات سے جڑا ہے جس میں پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ اور اس کے اوور گراؤنڈ ورکرز کے نیٹ ورک سے متعلق مبینہ سازش کا الزام شامل ہے۔
استغاثہ کے مطابق خورم پرویز، جو جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر رہے، پر الزام ہے کہ وہ نیٹ ورک کے لیے افراد کو بھرتی کرنے اور ایک شریک ملزم اور پاکستان میں موجود ایل ای ٹی کے ہینڈلر حیدر عرف علی عرف یوسف کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں ملوث تھے۔این آئی اے نے مزید الزام لگایا کہ انہوں نے انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی آڑ میں بھارتی سکیورٹی فورسز سے متعلق معلومات اکٹھی کیں، انسدادِ عسکریت کارروائیوں میں شامل افسران کے ڈوزیئر تیار کیے اور جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں میں مدد فراہم کی۔
ایجنسی نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ایک سابق پولیس افسر کو غیر قانونی ادائیگی کے ذریعے این آئی اےکی تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔خورم پرویز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر مواد جو این آئی اےنے پیش کیا وہ عوامی طور پر دستیاب رپورٹس اور انسانی حقوق کی جائز سرگرمیوں کے تحت تیار کردہ دستاویزات پر مبنی ہے۔ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق بدلتی ہوئی عدالتی تشریحات اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ذاتی آزادی کے حق پر تفصیل سے غور کیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ پرویز 22 نومبر 2021 سے حراست میں ہیں اور تقریباً ساڑھے چار سال جیل میں گزار چکے ہیں، جبکہ مقدمہ ابھی چارج فریم کرنے کے مرحلے پر ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ استغاثہ 197 گواہوں کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مقدمہ جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5) کی پابندیاں اس صورت میں مکمل طور پر لاگو نہیں رہتیں جب کسی ملزم کی طویل قید جاری ہو اور مقدمے کے جلد ختم ہونے کا امکان نہ ہو۔اگرچہ عدالت نے الزامات کو سنگین قرار دیا، لیکن یہ بھی کہا کہ کیس کا بڑا حصہ ایک شریک ملزم کے بیان پر مبنی ہے جو بعد میں سرکاری گواہ بن گیا ہے، اور اس کی گواہی ابھی ٹرائل میں پرکھنی باقی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ استغاثہ کے شواہد میں شامل کئی دستاویزات، بشمول فوجی ڈھانچے اور مبینہ واقعات سے متعلق رپورٹس، عوامی طور پر پہلے سے دستیاب تھیں اور جے کے سی سی ایس کی ویب سائٹ پر بھی موجود تھیں۔کچھ الزامات 2007 اور 2015 کے پاکستان کے دوروں سے متعلق تھے جنہیں پرویز نے قانونی اور کھلے دورے قرار دیا۔عدالت نے کہا کہ قومی سلامتی اور انفرادی آزادی کے درمیان توازن ضروری ہے، اور طویل قید کے دوران کسی شخص کی آزادی کو غیر معینہ مدت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ آرٹیکل 21 کے تحت ان کے حقوق کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پرویز کی جسمانی حالت بھی قابلِ غور ہے، کیونکہ وہ 2004 میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی ایک ٹانگ کھو چکے ہیں اور ایک معذور شخص ہیں۔تمام پہلوؤں—طویل قید، مقدمے کی موجودہ صورتحال، شواہد کی نوعیت اور آئینی اصولوں کو دیکھتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا، تاہم عدالت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے ساتھ۔