نئی دہلی
کرناٹک ریاستی سائبر کمانڈ نے ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جنہوں نے خود کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے افسر ظاہر کر کے 74 سالہ خاتون سے 24 کروڑ روپے ہتھیا لیے تھے۔ پولیس نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت این۔ شیوگیانم (ایروڈ، تمل ناڈو)، اکاچ ملک (ممبئی)، پلک بھائی پٹیل اور امیت نریندر پٹیل (احمد آباد)، اوم پرکاش راجپوت (نئی دہلی) اور گورو کمار (بہار) کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے رواں سال 10 فروری سے 24 اپریل کے درمیان خاتون کو خوفزدہ کر کے یہ رقم مختلف کھاتوں میں منتقل کروائی۔
پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے 26 مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے ملک بھر کے 10 بینکوں میں کھولے گئے 23 ’’میول‘‘ (فرضی یا استعمال شدہ) بینک کھاتوں میں مجموعی طور پر 24 کروڑ روپے منتقل کر دیے تھے۔پولیس کے مطابق یہ معاملہ 24 اپریل کو اس وقت سامنے آیا جب ایک بینک نے سائبر کمانڈ یونٹ کو مشتبہ لین دین کی کوششوں کے بارے میں اطلاع دی۔ اس کے بعد پولیس کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور خاتون کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مزید رقم منتقل کرنے سے روک دیا۔
بزرگ خاتون کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ تفتیش کے دوران سائبر کمانڈ یونٹ نے ان بینک کھاتوں کی نشاندہی کے لیے تیزی سے کام کیا جن میں دھوکہ دہی کی رقم ابتدائی طور پر جمع کی گئی تھی۔
بنگلورو سائبر کمانڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل پرنو موہنتی کے بیان کے مطابق، کارروائی کے دوران ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کی مدد سے رقم کی غیر قانونی منتقلی اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے والے متعدد ’میول‘ اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا اور چار کروڑ روپے سے زائد رقم محفوظ کر لی۔ اس کے علاوہ عدالتی احکامات کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے بھی واپس حاصل کیے گئے۔
پولیس نے اس جرم میں استعمال ہونے والے چھ موبائل فون بھی ضبط کر لیے ہیں۔