عدالت نے آوارہ کتوں سے متعلق وزیراعلیٰ کا بیان سننے سے انکار کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 25-05-2026
عدالت نے آوارہ کتوں سے متعلق وزیراعلیٰ کا بیان سننے سے انکار کیا
عدالت نے آوارہ کتوں سے متعلق وزیراعلیٰ کا بیان سننے سے انکار کیا

 



نئی دہلی
سپریم کورٹ نے پیر کے روز اس درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے یہ بیان دیا ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت نے آوارہ کتوں کو مارنے کی ’’کھلی چھوٹ‘‘ دے دی ہے۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے میں سماعت کی درخواست کرنے والے وکیل سے کہا کہ کیا صرف وزیر اعلیٰ کے ایک بیان کی بنیاد پر ہمیں اپنا حکم تبدیل کرنا ہوگا؟
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آوارہ کتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے 19 مئی کے حکم کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے مبینہ طور پر ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔
اس پر بنچ نے کہا کہ آپ پنجاب ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ ہم آپ کی درخواست قبول نہیں کر رہے ہیں۔وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سے آوارہ کتوں کو مارا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے 19 مئی کو اپنے ایک اہم فیصلے میں انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے ریبیز سے متاثرہ، بیمار، خطرناک اور جارحانہ کتوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دی تھی۔عدالت نے کہا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد انسانی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ باوقار زندگی گزارنے کے حق میں یہ بھی شامل ہے کہ لوگ کتوں کے حملوں یا نقصان کے خوف کے بغیر آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے حکم میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ جب انسانی جان اور اس کی سلامتی کا موازنہ حساس جانداروں کے مفادات اور فلاح و بہبود سے کیا جائے تو آئینی توازن واضح طور پر انسانی زندگی کے تحفظ اور سلامتی کے حق میں جھکنا چاہیے۔