نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اُس حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو پوکسو (POCSO) قانون کے تحت درج ایک مقدمے میں پیشگی ضمانت دی گئی تھی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بنچ نے شکایت کنندہ آشوتوش برہمچاری کی اُس عرضی کو مسترد کر دیا، جس میں سادھو کو دی گئی راحت کو چیلنج کیا گیا تھا۔
بنچ نے عرضی خارج کرتے ہوئے کہا: “معاف کیجیے، ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔” 25 مارچ کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سوامی اویمکتیشورانند اور ان کے شاگرد مکندانند برہمچاری کو اس مقدمے میں پیشگی ضمانت دی تھی۔ اسی کے ساتھ ہائی کورٹ نے شکایت کنندہ اور ملزمان دونوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے سے متعلق میڈیا میں کوئی عوامی بیان نہ دیں۔ عدالت نے ملزمان کو جاری تفتیش میں تعاون کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
یہ معاملہ پریاگ راج کے جھونسی پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے، جو پوکسو عدالت کی ہدایت پر درج کی گئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے کئی ’بٹکوں‘ یعنی کم عمر شاگردوں کا جنسی استحصال کیا۔