مکمل بدانتظامی'، سی جے پی مارچ پر اسدالدین اویسی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-07-2026
مکمل بدانتظامی'، سی جے پی مارچ پر اسدالدین اویسی
مکمل بدانتظامی'، سی جے پی مارچ پر اسدالدین اویسی

 



نئی دہلی:سی جے پی کی قیادت میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہونے والی جھڑپ، جس میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، کے تنازع کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے منگل کو دعویٰ کیا کہ دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے بار بار دہرائے جانے والے رویے کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ وکلا کے احتجاج، کسانوں کی تحریک اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج سے نمٹنے کے حکومت کے انداز سے کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ حکومت کے پاس صورتحال کو بگڑنے سے روکنے کا پورا موقع تھا کیونکہ یہ احتجاج کئی ہفتوں سے جاری تھا۔

انہوں نے کہا:"کل جو کچھ ہوا وہ اس حکومت کا مسلسل رویہ ہے۔ اسی طرح کی کارروائیاں وکلا کے احتجاج، کسانوں کی تحریک اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران بھی ہوئی تھیں۔ یہ احتجاج کئی ہفتوں سے جاری تھا۔ آپ کو پہلے ہی طلبہ سے بات چیت کرنی چاہیے تھی۔"

انہوں نے احتجاج کے دوران سامنے آنے والے مناظر کو "مکمل بدانتظامی" قرار دیا۔یہ احتجاج جون میں شروع ہوا تھا اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے اس تحریک میں شامل ہونے اور ان کی جانب سے شروع کی گئی بھوک ہڑتال کے بعد اسے ملک بھر میں خاصی توجہ حاصل ہوئی، جو اب بھی جاری ہے۔

اویسی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نیٹ۔یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔

ادھر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ "طلبہ کو اپنے مستقبل سے متعلق جائز سوالات پوچھنے پر مارا گیا۔" انہوں نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد اور نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے بحران پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے پیر کے روز جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے سلسلے میں اب تک 5 ایف آئی آر درج کی ہیں اور یہ جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ تشدد پہلے سے تیار کی گئی کسی سازش کا حصہ تھا یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس 250 سے زائد ویڈیوز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس میں ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمات پارلیمنٹ اسٹریٹ اور کناٹ پلیس تھانوں میں بھارتیہ نیائے سنہتا 2023، آرمس ایکٹ 1959 اور عوامی املاک کو نقصان سے تحفظ کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔دہلی پولیس کے مطابق اس احتجاج کے دوران 118 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 60 سے زیادہ مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔