نئی دہلی
ہندوستانی الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ہونے والی آئندہ ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ کمیشن نے ریاست میں 165 اضافی گنتی کے مبصرین اور 77 پولیس مبصرین تعینات کیے ہیں، تاکہ گنتی کا عمل مکمل طور پر پرامن اور شفاف طریقے سے انجام دیا جا سکے۔
کمیشن کے مطابق، یہ اضافی مبصرین پہلے سے تعینات 294 گنتی مبصرین کی مدد کریں گے۔ ان کا بنیادی کام یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر اسمبلی حلقے میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شفاف اور منظم طریقے سے مکمل ہو۔ حکام نے بتایا کہ ان اضافی تقرریوں کا مقصد کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا گڑبڑی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ہی 77 پولیس مبصرین بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ یہ افسران گنتی مراکز کے باہر قانون و نظم برقرار رکھنے پر توجہ دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی قسم کی بھیڑ، کشیدگی یا بد نظمی پیدا نہ ہو۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عام طور پر گنتی کے عمل کے دوران پولیس مبصرین تعینات نہیں کیے جاتے، لیکن اس بار حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ یہ پولیس مبصرین گنتی مراکز کے اندر داخل نہیں ہوں گے اور ان کا کردار صرف بیرونی سکیورٹی تک محدود رہے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب مغربی بنگال کی تمام 294 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ ریاست میں ووٹنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو انجام پائی تھی۔ اب ان نشستوں کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا یہ قدم گنتی کے عمل کی ساکھ اور سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں اہم مانا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں مختلف ریاستوں میں گنتی کے دوران سکیورٹی اور انتظامات کے حوالے سے چوکسی بڑھائی گئی ہے، اور اسی سلسلے میں مغربی بنگال میں بھی اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ووٹوں کی گنتی جیسے حساس مرحلے میں مضبوط انتظامی اور سکیورٹی تیاری جمہوری عمل کی شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔ اضافی مبصرین کی تعیناتی سے نہ صرف نگرانی میں اضافہ ہوگا بلکہ کسی بھی ممکنہ تنازع یا شکایت کی صورت میں فوری حل بھی ممکن ہو سکے گا۔
کمیشن نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ اس کے ساتھ ہی گنتی مراکز پر کسی بھی غیر ضروری بھیڑ یا رکاوٹ سے بچنے کے لیے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔مجموعی طور پر، الیکشن کمیشن کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم مغربی بنگال میں پرامن اور منظم گنتی کو یقینی بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔