نئی دہلی:نیٹ امتحان پرچہ لیک معاملے کے خلاف پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بانی ابھجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مظاہرین کے خلاف کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ابھجیت دیپکے کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ انہوں نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر موجود طلبہ کے حق میں آواز اٹھائیں۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس پرامن مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی اور لاٹھی چارج کر رہی ہے۔
اس سے قبل ابھجیت دیپکے نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی درخواست پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ انہوں نے یہ بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی تھی جب 18 جولائی کو سونم وانگچک اپنی 21 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد صفدر جنگ اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔
ادھر سی جے پی کے نمائندوں آشوتوش رانکا اور سوربھ داس نے پیر کے روز مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
سوربھ داس کے مطابق دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کے بعد ہونے والی تقریباً 10 منٹ کی ملاقات میں پارٹی نے اپنے مطالبات پر مشتمل تحریری یادداشت وزیر صحت کے حوالے کی۔ ان کے مطابق جے پی نڈا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر اندرونی سطح پر بات کریں گے۔
دوسری جانب صفدر جنگ اسپتال میں زیر علاج سونم وانگچک نے اسپتال انتظامیہ سے درخواست کی کہ چونکہ ان کی طبیعت اب بہتر ہے، اس لیے انہیں عارضی طور پر اسپتال سے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ "سنسد چلو" مارچ میں شریک ہو سکیں۔
دریں اثنا، پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب بڑھنے والے سینکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ جنتر منتر سے شروع ہونے والے احتجاج کے باعث کئی علاقوں میں ٹریفک بھی متاثر ہوئی جبکہ مانسون اجلاس کے آغاز کے پیش نظر پارلیمنٹ کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
پولیس کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق پیشگی اجازت کے بغیر احتجاجی مارچ، جلوس، مظاہرے یا 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے، سوائے جنتر منتر کے مقررہ احتجاجی مقام کے۔
واضح رہے کہ سی جے پی کی جانب سے ابھجیت دیپکے کی حراست اور پولیس کارروائی کے الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔