جے رام رمیش نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو دہرایا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 01-06-2026
جے رام رمیش نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو دہرایا
جے رام رمیش نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو دہرایا

 



نئی دہلی
سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ  نظام سے متعلق تنازع کے درمیان کانگریس کے سینئر رہنما جئے رام رمیش نے پیر کے روز مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ’’آخرکار یہ تسلیم کر لیا ہے کہ نظام متاثر ہو چکا ہے۔
سی بی ایس ای نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ آن مارک پورٹل میں موجود سکیورٹی کمزوریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ان نظاموں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں جئے رام رمیش نے اگست 2025 میں جاری کیے گئے ٹینڈر کی ریکویسٹ فار پروپوزل  میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’تکبر اور نااہلی کی علامت‘‘ قرار دیا۔انہوں نے مرکزی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے کوایمپٹ ایڈوٹیک نامی کمپنی کو بچانے کی کوشش کی، جو آن مارک پورٹل کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر رہی تھی۔
جئے رام رمیش نے لکھا کہ آن اسکرین مارکنگ نظام میں سائبر سکیورٹی کی کمزوریوں سے کئی ہفتوں تک انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخرکار تسلیم کر لیا ہے کہ نظام متاثر ہوا ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ وہ اپنے ٹھیکیدار کوایمپٹ کے خلاف کیا کارروائی کرے گا؟ غالباً بہت کم۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارتِ تعلیم میں موجود کوایمپٹ کے سرپرست پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ کمپنی اس کام کے لیے موزوں نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگست 2025 کے آر ایف پی میں سی بی ایس ای کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ ناقص کارکردگی دکھانے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کر سکے۔ تاہم ستمبر میں ایک ترمیم جاری کی گئی جس کے ذریعے بورڈ نے خود اپنا یہ اختیار ختم کر دیا۔ یہ ایک ناقابلِ فہم اور حکومتی حمایت یافتہ کوشش معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد کوایمپٹ کو بچانا تھا، اور یہ سب اس وقت شروع ہوا جب کمپنی کو باضابطہ طور پر معاہدہ بھی نہیں ملا تھا۔
جئے رام رمیش نے ایک بار پھر کانگریس کی جانب سے دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا۔انہوں نے کہا کہ آخر قوم کب تک وزیر پردھان کو برداشت کرے گی، جن کی وزارت کی نگرانی میں ایسی ناقابلِ یقین بے ضابطگیاں ہوئیں جنہوں نے لاکھوں طلبہ کی ذہنی صحت کو متاثر کیا؟ وزیر پردھان تکبر اور نااہلی کی جیتی جاگتی مثال ہیں، جو قومی ذمہ داری سے زیادہ اپنی سیاسی ترجیحات کو اہمیت دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کبھی خود کو یا اپنے ساتھیوں کو اخلاقی جوابدہی کے معیار پر نہیں پرکھتے، لیکن وزیر پردھان کو اپنا راج دھرم نبھاتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
دوسری جانب، 27 مئی کو سی بی ایس ای نے کوایمپٹ ایڈوٹیک کو معاہدہ دیے جانے سے متعلق تمام الزامات مسترد کر دیے تھے۔بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ سی بی ایس ای کوایمپٹ ایڈوٹیک کو معاہدہ دیے جانے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ یہ دعوے غلط، گمراہ کن اور حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ بورڈ نے معاہدہ دینے کے عمل میں جنرل فنانشل رولز کے تمام ضابطوں پر مکمل عمل کیا ہے۔ سی بی ایس ای نے بورڈ امتحانات 2026 کے لیے جوابی کاپیوں کی ڈیجیٹل جانچ کے سلسلے میں 28 اگست 2025 کو مرکزی پبلک پروکیورمنٹ پورٹل پر آر ایف پی جاری کیا تھا اور معاہدہ اہل بولی دہندہ کو دیا گیا۔
ادھر، امتحانی نتائج کے بعد استعمال ہونے والے پورٹل میں تکنیکی خرابیوں اور جانچی گئی جوابی کاپیوں میں مبینہ تضادات کی خبروں کے بعد سی بی ایس ای پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔