سی بی آئی عدالت نے جیلانی اسٹیل ٹریڈرز سمیت سات کو قصوروار ٹھہرایا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 01-09-2026
سی بی آئی عدالت نے جیلانی اسٹیل ٹریڈرز سمیت سات کو قصوروار ٹھہرایا
سی بی آئی عدالت نے جیلانی اسٹیل ٹریڈرز سمیت سات کو قصوروار ٹھہرایا

 



نئی دہلی: چنئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے 2.68 کروڑ روپے کے بینک فراڈ کے معاملے میں جیلانی اسٹیل ٹریڈرز اور چھ دیگر افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ یونائیٹڈ بینک آف انڈیا کی شکایت پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے تحقیقات شروع کیے جانے کے تقریباً 18 سال بعد خصوصی عدالت نے پیر کو کمپنی اور چھ دیگر افرادایس. امرالدین، ایل. وجے لکشمی، ایم. شانتی، ایس. کاماکشی، ایم. شیواکمار اور ایم. روی چندرن بابو کو اس جرم کا قصوروار پایا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران چار نجی ملزمان—جیلانی بی وی، اے. سری نواسن، این. منوہرن اور ایس. جی. شیکھر—کی موت ہو گئی، جس کے بعد ان کے خلاف الزامات ختم کر دیے گئے۔ الزام تھا کہ ان افراد نے غلط اور جعلی دستاویزات جمع کرا کے بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے متعدد قرض کی سہولتیں حاصل کیں، بینک کی رقم میں خردبرد کی اور اس طرح بینک کے ساتھ 2.68 کروڑ روپے کا فراڈ کیا۔

سی بی آئی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، ’’عدالت نے جیلانی اسٹیل ٹریڈرز پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ایس. امرالدین کو دو سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی۔ ایل. وجے لکشمی، ایم. شانتی، ایس. کاماکشی، ایم. شیواکمار اور ایم. روی چندرن بابو کو چھ چھ ماہ کی سخت قید کی سزا سنائی گئی۔ ان چھ ملزمان پر مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔‘‘ عدالت نے یونائیٹڈ بینک آف انڈیا کے اُس وقت کے برانچ منیجر ایس. آر. گیان شیکھر اور ایم. چکرورتی نامی ایک نجی شخص کو بری کر دیا، جبکہ پی. بی. سمپت کمار نامی ایک اور شخص کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔