سی بی آئی کی چنڈ ی گڑھ، لدھیانہ میں چھاپہ مار کارروائیاں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-07-2026
سی بی آئی کی چنڈ ی گڑھ، لدھیانہ میں چھاپہ مار کارروائیاں
سی بی آئی کی چنڈ ی گڑھ، لدھیانہ میں چھاپہ مار کارروائیاں

 



نئی دہلی: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے کھاتوں سے چندی گڑھ اسمارٹ سٹی لمیٹڈ (CSCL) اور میونسپل کارپوریشن چندی گڑھ کے فنڈز میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں چندی گڑھ اور لدھیانہ میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق، سی بی آئی نے پانچ مقامات پر تلاشی لی، جن میں مبینہ طور پر خردبرد شدہ رقوم سے فائدہ اٹھانے والوں کے گھروں اور کاروباری دفاتر، سی ایس سی ایل کے سرکاری ملازم انوبھو مشرا کی رہائش گاہ اور تفتیش سے وابستہ نجی ادارے شامل ہیں۔ چھاپوں کے دوران متعدد اہم دستاویزات اور شواہد ضبط کیے گئے، جن میں ڈیجیٹل اسٹوریج ڈرائیوز، ڈیجیٹل دستخط، جائیداد سے متعلق دستاویزات، مالیاتی ریکارڈ، الیکٹرانک آلات اور دیگر اہم کاغذات شامل ہیں۔

سی بی آئی کے مطابق ضبط شدہ دستاویزات اور الیکٹرانک ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ ریاستی حکومت کی درخواست پر ہریانہ کے اسٹیٹ ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو سے سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔

یہ مبینہ فراڈ سیکٹر-32، چندی گڑھ میں واقع آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی ایک بڑی بینک دھوکہ دہی سے جڑا ہوا ہے، جس میں ہریانہ حکومت کے آٹھ محکموں کے تقریباً 504 کروڑ روپے جعلی یا فرضی فکسڈ ڈپازٹس اور دھوکہ دہی پر مبنی لین دین کے ذریعے نکال کر شیل کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

سی بی آئی اب تک ہریانہ کیس میں 17 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر چکی ہے، جن میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک کے چھ بینک افسران، ہریانہ حکومت کے تین سرکاری ملازمین، دو کمپنیاں اور چھ نجی افراد شامل ہیں۔

سی بی آئی نے چندی گڑھ سے متعلق دو دیگر مقدمات بھی اپنے ہاتھ میں لیے ہیں، جن میں ایک چندی گڑھ اسمارٹ سٹی لمیٹڈ/میونسپل کارپوریشن اور دوسرا چندی گڑھ رینیوایبل انرجی اینڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروموشن سوسائٹی (CREST) سے متعلق ہے۔ سی ایس سی ایل کیس میں پانچ بینک افسران، ایک سی ایس سی ایل عہدیدار اور ایک نجی فرد کے خلاف جبکہ کریسٹ کیس میں پانچ بینک افسران، دو کریسٹ اہلکاروں، چار نجی افراد اور دو کمپنیوں کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے۔