نئی دہلی: نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف ملک گیر احتجاج کے درمیان مرکزی کابینہ نے پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیمی بل کو پیر 27 جولائی کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طلبہ اور اپوزیشن جماعتیں پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی، جامع تحقیقات اور عوامی امتحانات کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ احتجاج 6 جون کو جنتر منتر سے شروع ہوا تھا اور 20 جولائی کو "سنسد چلو" مارچ کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچا، جہاں مظاہرین نے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
کابینہ کے فیصلوں سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو سے پرچہ لیک کے خلاف سخت کارروائی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے بارے میں کئی سوالات کیے گئے، تاہم انہوں نے ان کا جواب نہیں دیا۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہوا ہے اور 13 اگست تک جاری رہے گا۔
ادھر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے نمائندوں نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ سے ملاقات کر کے اپنے مطالبات پیش کیے۔ ملاقات کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر غور کرنے کے لیے ہفتہ دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔
پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت ان کے دیگر دو مطالبات پر مثبت رویہ رکھتی ہے، جن میں نیٹ پرچہ لیک سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینا اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنا شامل ہے۔ رانکا نے صحافیوں سے کہا، "حکومت نے دھرمندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کل دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت انہیں جلد عہدے سے ہٹا دے گی۔"
دوسری جانب مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت جمعہ کی ملاقات میں اٹھائے گئے نکات پر اندرونی مشاورت کے بعد ہفتہ کو ایک بار پھر سی جے پی کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سی جے پی نے تین بنیادی مطالبات اور امتحانی اصلاحات سے متعلق پانچ تجاویز پیش کی ہیں۔ جے پی نڈا نے کہا، "ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ہم نے انہیں بتایا ہے کہ کل دوپہر دوبارہ ملاقات ہوگی، جس میں حکومت کی اندرونی مشاورت کے نتائج سے انہیں آگاہ کیا جائے گا۔"