نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت کے مالک ہری رام کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے 10 ٹیموں کے ذریعے کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلانے کے بعد اسے گرفتار کیا۔ عمارت منہدم ہونے کے بعد ہری رام کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا، جس کے بعد دہلی پولیس نے اس کے خلاف لک آؤٹ سرکولر (ایل او سی) جاری کیا تھا۔ پولیس اس سے مزید پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے، جبکہ بچاؤ کارروائی کے دوران اب تک 12 افراد کو محفوظ نکالا جا چکا ہے۔
امدادی اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے پیر کو کئی افسران کو معطل بھی کر دیا۔ ان میں جنوبی زون کے ڈپٹی کمشنر، ایگزیکٹو انجینئر، سپرنٹنڈنگ انجینئر، اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر شامل ہیں۔ ایم سی ڈی کمشنر سنجیو کھرور نے کہا، ’’بدقسمتی سے ہم نے سات جانیں گنوائی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ منہدم عمارت کے ساتھ والی عمارت بھی کمزور ہو گئی ہے۔ اسے رات بھر مضبوط کیا گیا۔ اگلے ایک سے دو دن میں اسے احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ منہدم کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگست میں ہم نے اسی علاقے کی 3-4 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات دیے تھے۔
عمارتوں کی باقاعدہ نشاندہی کی جاتی ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں 960 عمارتیں منہدم کی گئیں، 407 عمارتوں کو سیل کیا گیا اور 1,500 عمارتوں کو سیل کرنے اور منہدم کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے۔ غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی ایک باقاعدہ عمل ہے۔‘‘ اس دوران راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حادثے کے بعد فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے خط میں کہا کہ مرکزی حکومت کو دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے سرکاری ہاسٹل تعمیر کرنے کے مقصد سے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی مالی بجٹ مختص کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس کے تحت شمالی اور جنوبی کیمپس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے مختلف علاقوں میں واقع کالجوں کے لیے بھی وقت مقرر کرکے طلبہ کی رہائش کا پروگرام شروع کیا جانا چاہیے۔
منوج کمار جھا نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت، یونیورسٹی اور اس کی ایجنسیوں کے پاس دستیاب سرکاری زمین کی نشاندہی کرکے وہاں ہاسٹل تعمیر کیے جائیں اور اس کام کی واضح مدت مقرر کرنے کے ساتھ پیش رفت کی معلومات عوام کے لیے دستیاب کرائی جائیں۔
حادثے کے بعد انتظامیہ نے بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے عوامی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی تمام عمارتوں، جن میں پی جی بھی شامل ہیں، کا اسٹرکچرل آڈٹ لازمی کرنے کی نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔