کولکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بدھ کے روز بھابنی پور اسمبلی حلقے کے مترا انسٹی ٹیوٹ پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔
ٹی ایم سی کی کامیابی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار 50 نشستوں سے بھی کم پر محدود ہو جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہر بار بڑی جیت کے دعوے کرتی ہے لیکن نتائج ہمیشہ اس کے برعکس آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں بھی بی جے پی نے 200 نشستوں کا دعویٰ کیا تھا مگر ترنمول کانگریس نے 200 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ اسی طرح لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 30 نشستوں کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ٹی ایم سی نے 29 نشستیں جیتیں۔ ان کے مطابق اس بار بھی بی جے پی کے دعوے غلط ثابت ہوں گے اور اس کی نشستیں 50 سے کم رہ جائیں گی۔
ابھیشیک بنرجی نے پولنگ مبصرین پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور سیاسی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ووٹنگ شروع ہوئی ہے اس لیے نتائج پر پہنچنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ٹی ایم سی بڑی اکثریت کے ساتھ واپس آئے گی اور اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو بھی خط لکھا گیا ہے۔
بھابنی پور اسمبلی حلقہ اس وقت ریاست کی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور قائد حزب اختلاف سوویندو ادھیکاری کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
یاد رہے کہ 2021 کے انتخابات میں سوویندو ادھیکاری نے نندی گرام سے ممتا بنرجی کو شکست دی تھی جس کے بعد ممتا نے بھابنی پور سے ضمنی انتخاب جیت کر اسمبلی میں واپسی کی۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ٹی ایم سی کے لیے اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ووٹنگ جنوبی بنگال اور کولکتہ کے ان علاقوں میں ہو رہی ہے جو پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔
اس مرحلے میں 294 میں سے 142 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے جبکہ تقریباً 3.21 کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 1,448 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 220 خواتین شامل ہیں اور 41,001 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 8 ہزار مکمل طور پر خواتین کے زیر انتظام ہیں۔
2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے ان 142 میں سے 123 نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی جبکہ اس بار بی جے پی شہری ووٹروں اور متوا برادری میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی مسلسل چوتھی بار حکومت بنانے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش میں ہے۔