بی جے پی کو بنگال کی جیت کا یقین: سکانتا مجمدار

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 02-05-2026
بی جے پی کو بنگال کی جیت کا یقین: سکانتا مجمدار
بی جے پی کو بنگال کی جیت کا یقین: سکانتا مجمدار

 



کولکتہ 
مرکزی وزیر سکانتا مجمدار نے ہفتہ کے روز کہا کہ ریاست میں دوبارہ ووٹنگ (ری پولنگ) کے لیے منتخب کیے گئے بوتھوں کی تعداد "بہت کم" ہے، اور انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ فالتا کے معاملے میں بے ضابطگیوں کی شکایات کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا۔15 بوتھوں پر ری پولنگ کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے مجمدار نے الزام لگایا کہ کئی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے ساتھ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔
انہوں نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تعداد (15 بوتھ) بہت کم ہے اور فالتا کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ وہاں بہت سے ای وی ایم بٹنوں کے ساتھ ٹی ایم سی نے چھیڑ چھاڑ کی... بہرحال، ووٹنگ جلد مکمل ہونے دیں اور 4 مئی کو عوام کا فیصلہ سامنے آنے دیں، یہی سب سے اہم بات ہے۔انہوں نے ٹی ایم سی لیڈر ششی پانجا کی جانب سے ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کو لکھے گئے خط پر بھی ردعمل دیا، جس میں انتخابی عمل کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
مجمدار نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نتائج سے خوفزدہ ہے اور کہا کہ ٹی ایم سی کے دل میں شکست کا خوف بیٹھ گیا ہے، اسی لیے وہ بار بار ایسے مسائل اٹھا رہی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی نے کل سے ہی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ آنے والے نتائج ان کے لیے مایوس کن ہوں گے اور بی جے پی کی حکومت بنے گی۔
ڈائمنڈ ہاربر کے انتخابی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈائمنڈ ہاربر کی آبادیاتی صورتحال بھی ہمارے لیے ایک چیلنج ہے... وہاں جس طرح کی دھاندلی ہوتی ہے—کالی ٹیپ، سیلوفین ٹیپ لگانا—یہ ابھیشیک بنرجی کا جمہوریت ماڈل ہے۔
دوسری جانب، پولنگ کے دوران مرکزی فورسز کی تعیناتی پر سیاسی تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ابھیشیک بنرجی نے انہیں "بی جے پی کی نجی فوج" قرار دیتے ہوئے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسی کارروائیوں کے باعث ادے نارائن پور میں ایک بزرگ شخص کی موت ہوئی۔ریاست میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد 15 بوتھوں پر ری پولنگ جاری ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔اس سے قبل جمعہ کو ٹی ایم سی لیڈر ششی پانجا نے مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو خط لکھ کر اسٹرونگ رومز میں "وقفے وقفے سے سی سی ٹی وی میں خلل" پر تشویش ظاہر کی تھی اور مکمل نگرانی کے ریکارڈ تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یکم مئی کے اپنے خط میں پانجا نے مختلف اسٹرونگ رومز میں سی سی ٹی وی نگرانی میں خلل کی خبروں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی حفاظت اور شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ادھر جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے مگراہٹ پشچم اسمبلی حلقے کے 11 بوتھوں اور ڈائمنڈ ہاربر اسمبلی حلقے کے 4 بوتھوں پر ہفتہ کی صبح سے دوبارہ ووٹنگ شروع ہو گئی۔
یہ ری پولنگ 29 اپریل کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران کچھ بوتھوں پر ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی شکایات سامنے آنے کے بعد کرائی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے، جس میں تقریباً 92.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔