چنڈی گڑھ
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے فرانزک لیبارٹریوں کے مالکان پر "حملہ" کیا ہے۔ انہوں نے گڑگاؤں پولیس کی جانب سے دو افراد کے خلاف وائرل ویڈیو کیس میں مبینہ طور پر جعلی فرانزک رپورٹ تیار کرنے کے الزام میں درج مقدمات کو مسترد کر دیا۔
ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں بھگونت مان نے کہا کہ وہ ویڈیو، جس میں مبینہ طور پر سکھ گروؤں کی تصاویر کی بے حرمتی دکھائی گئی تھی، جعلی ہے۔انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی، کانگریس اور اکالی دل نے انہیں بدنام کرنے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مذہب کو ان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔
بھگونت مان نے کہاکہ گزشتہ چند دنوں سے گندی سیاست کے تحت میری جعلی ویڈیوز جاری کی جا رہی ہیں۔ جب انہیں کوئی اور راستہ نہیں ملتا تو وہ مذہب کے نام پر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویڈیو میں موجود شخص نہ میری جسامت سے ملتا ہے، نہ میرے حلیے سے اور نہ ہی میرے کھڑے ہونے کے انداز سے۔ اب وہ مجھے اس ویڈیو کو وائرل کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام نے خود ویڈیو دیکھی اور متعدد لوگوں نے فون کر کے بتایا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ ان کے مطابق، اس ویڈیو کی جانچ فرانزک لیبارٹریوں میں بھی کرائی گئی تھی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اصل اور جعلی دعوؤں کا فیصلہ عوام خود کریں گے۔ انہوں نے اپوزیشن پر "گندی سیاست" کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔بھگونت مان نے کہا کہ بی جے پی نے فرانزک لیب مالکان پر دباؤ ڈالا ہے۔ پنجاب میں بی جے پی، کانگریس اور اکالی دل نے اتحاد کر لیا ہے کیونکہ لوگوں نے ان کی جعلی ویڈیو مہم کو مسترد کر دیا اور ان پر گندی سیاست کرنے کے الزامات لگائے۔ ایف آئی آر اور ہراسانی کے خوف سے لیب مالکان سے یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ انہوں نے جعلی رپورٹ کے لیے پیسے لیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس لیب سے ہم نے جانچ کرائی وہ جعلی قرار دی جا رہی ہے اور جس لیب سے انہوں نے جانچ کرائی وہ اصلی؟ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ میں یہ فیصلہ عوام پر چھوڑتا ہوں۔ پنجاب میں ان کے پاس دکھانے کے لیے کوئی چہرہ نہیں بچا، اس لیے اب وہ مذہب کا سہارا لے کر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھگونت مان نے کہا کہ وہ بجلی، رہائش، اسپتالوں اور روزگار سے متعلق اپنے ترقیاتی کام اسی رفتار سے جاری رکھیں گے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گڑگاؤں پولیس نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے منسلک مبینہ وائرل ویڈیو کیس میں جعلی فرانزک رپورٹ تیار کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔
گڑگاؤں کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (جرائم) نوین شرما کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر ویڈیو تیار کرنے کے لیے پنجاب کے بعض حکام سے 10 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔نوین شرما نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "گڑگاؤں پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی، جس کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان سے تفتیش جاری ہے۔ ایک ملزم کی شناخت انکیت کے نام سے ہوئی ہے، جو سائبر ماہر ہے اور این آئی اے کے ساتھ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرتا تھا، جبکہ دوسرے شخص کا نام ارون ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان نے کسی سرکاری تسلیم شدہ لیبارٹری سے کام نہیں کیا تھا بلکہ مبینہ طور پر جعلی فرانزک رپورٹ تیار کر کے وزیر اعلیٰ کی ویڈیو کو وائرل کیا تھا۔
پولیس افسر کے مطابق، ملزمان نے بتایا ہے کہ انہیں اس کام کے لیے 10 لاکھ روپے دیے گئے تھے اور پڑوسی ریاست کے بعض حکام بھی اس معاملے میں ملوث تھے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے پر فرانزک ماہرین کی مدد سے ان کی تصدیق کی جائے گی۔
دوسری جانب کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں نے بھی بھگونت مان پر تنقید کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔