نئی دہلی: دہلی پولیس کے سینٹرل ڈسٹرکٹ کی اینٹی آٹو تھیفٹ اسکواڈ (AATS) نے آپریشن ویسٹا 1.0 (ویزا اسٹیٹس ویریفکیشن) کے تحت ایک خصوصی تصدیقی مہم چلا کر 11 بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کیا ہے، جو اپنے ڈبل انٹری ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ ہندوستان میں مقیم تھے۔
پولیس کے مطابق تمام 11 افراد کو ہر بار آمد پر صرف 15 دن قیام کی اجازت تھی، لیکن وہ اس مدت سے زیادہ عرصہ تک ہندوستان میں رکے رہے۔ یہ کارروائی ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر مقامات پر چلائی گئی جانچ مہم کے دوران کی گئی۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 11 بنگلہ دیشی پاسپورٹ، 11 ڈبل انٹری ویزے اور 14 موبائل فون ضبط کیے ہیں، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
غیر ملکی شہریوں کے علاقائی رجسٹریشن دفتر (FRRO) نے تمام 11 افراد کے خلاف ریسٹرکشن آرڈر جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد انہیں ملک بدری (ڈی پورٹیشن) تک سیوا دھام ڈٹینشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 3 اور 4 اگست 2026 کی درمیانی شب پہاڑ گنج علاقے میں گشت کے دوران اطلاع ملی کہ کچھ بنگلہ دیشی شہری اپنی قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر دہلی میں مقیم ہیں۔
اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے نعیم احمد نامی ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کیا، جو بنگلہ دیش کے ضلع سلہٹ کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاسپورٹ کی جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ 29 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا اور اسے ہندوستان میں 28 جون 2026 تک رہنے کی اجازت تھی، لیکن وہ بغیر کسی توسیع یا قانونی اجازت کے ملک میں مقیم تھا۔ مسلسل پوچھ گچھ کے دوران نعیم احمد نے انکشاف کیا کہ دہلی میں مزید کئی بنگلہ دیشی شہری بھی غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔
اس اطلاع پر پولیس نے فلیٹ نمبر 158، حوض رانی، مالویہ نگر میں چھاپہ مارا، جہاں سے مزید 10 بنگلہ دیشی شہری پکڑے گئے۔ پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ تمام افراد ڈبل انٹری ویزا پر ہندوستان آئے تھے، جس کے تحت ہر بار زیادہ سے زیادہ 15 دن قیام کی اجازت ہوتی ہے، لیکن انہوں نے مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرکے اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔