لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر میں مبینہ چندے کی چوری کی خبر اتر پردیش کے ہر گاؤں تک پہنچ چکی ہے اور اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لکھنؤ میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، "ایودھیا کے مندر میں چوری کی خبر ہر گاؤں تک پہنچ گئی ہے۔ اس بار بی جے پی کو نہ چندہ ملے گا، نہ نذرانہ اور نہ ہی ووٹ۔" انہوں نے الزام لگایا کہ برسراقتدار جماعت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ فرضی کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں اور دوسروں کو اس معاملے سے جوڑ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
" بھگوان رام اور آئین کا حوالہ دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے مذہبی اقدار اور جمہوری اصولوں دونوں سے غداری کی ہے۔ انہوں نے کہا، "‘مریادا’ (وقار و اصول) کے ساتھ پہلا نام بھگوان رام کا جڑا ہے اور دوسرا آئین کا۔ انہوں نے عقیدے، وقار اور عقیدت کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ اب وہ آئین اور جمہوریت کو بھی کمزور کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔" اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بھگوان رام کے نام پر دیے گئے چندے کی حقیقت عوام کے سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا، "جب حقیقت سامنے آئے گی تو عوام اپنا فیصلہ خود سنائیں گے۔
" ایودھیا میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے عہدیداروں چمپت رائے، گوپال راؤ اور انیل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے پر وکلا کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف عوامی ناراضی بڑھ رہی ہے اور لوگ بی جے پی کو بیلٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے ایودھیا رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کا معاملہ اٹھانے والوں کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انصاف ضرور ہوگا۔ اکھلیش یادو نے مزید الزام لگایا کہ اتر پردیش میں انصاف کے متلاشی افراد کو ایک سرکاری دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ریاست میں بدعنوانی عام ہو چکی ہے۔