ششی تھرور نے کرن رجیجو کے "کانگریس مخالف خواتین" کے دعوے کی تردید کی

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 28-04-2026
ششی تھرور نے کرن رجیجو کے
ششی تھرور نے کرن رجیجو کے "کانگریس مخالف خواتین" کے دعوے کی تردید کی

 



نئی دہلی
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے منگل کے روز مرکزی وزیر کیرن ریجیجو کے اس دعوے کو مسترد کر دیا، جس میں بی جے پی رہنما نے ایک سابقہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تھرور نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ان کی پارٹی "خواتین مخالف" ہے۔
کیرالہ سے رکنِ پارلیمنٹ تھرور نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس تشریح کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ میں معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ کیرن ریجیجو کے لیے بھرپور احترام کے باوجود، میں نے کبھی بھی ایسا کچھ نہ کہا اور نہ ہی اس کا کوئی اشارہ دیا۔ تصویر میں موجود سات گواہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر کے دعوے کو رد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "'یہی ان کا مطلب تھا'— ہمارے وزیر کا کہنا ہے۔ نہیں جناب، یہ ہرگز میرا مطلب نہیں تھا۔ 'کہ کانگریس خواتین مخالف ہو سکتی ہے… انہوں نے کسی حد تک اتفاق کیا  ایسا کہا گیا، لیکن میں واضح کرتا ہوں کہ میں نے کسی بھی طرح سے اتفاق نہیں کیا۔
تھرور نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر کانگریس کے مؤقف کو بھی دہرایا اور اس کی قانون سازی کی تاریخ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس  نے سونیا گاندھی کی قیادت میں خواتین کے حقوق اور خواتین کے ریزرویشن کی ہمیشہ حمایت کی، ویمن ریزرویشن بل کی شروعات کی، اپنے دورِ حکومت میں اسے راجیہ سبھا میں پاس کرایا اور 2023 میں حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کیے جانے پر بھی اس کی حمایت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مکمل طور پر خواتین کے ریزرویشن کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے فوراً نافذ کیا جائے— بغیر اسے حد بندی (ڈیلیمٹیشن) سے جوڑے۔یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب مرکزی وزیر کیرن ریجیجو نے دعویٰ کیا تھا کہ تھرور نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ویمن ریزرویشن بل پارلیمنٹ میں پاس نہ ہونے کے معاملے پر کانگریس کو "خواتین مخالف" سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں، جس کا کلپ ریجیجو نے ایکس پر شیئر کیا، انہوں نے تھرور کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "ڈاکٹر ششی تھرور اور میں ایک بات پر متفق تھے۔ وہ یقینی طور پر خواتین مخالف نہیں ہیں، شاید اس لیے کہ وہ خواتین میں کافی مقبول ہیں، یا اس کے برعکس!"
انہوں نے مزید کہا، "پارلیمنٹ اجلاس ختم ہونے کے بعد ششی تھرور نے مجھ سے کہا کہ کوئی بھی خاتون انہیں خواتین مخالف نہیں سمجھے گی۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں، میں بھی مانتا ہوں کہ آپ کو کوئی خواتین مخالف نہیں کہے گا، لیکن آپ کی پارٹی خواتین مخالف ہے۔ ایک طرح سے انہوں نے میری بات مان لی اور میں نے ان کی بات۔اس سے قبل تھرور نے ایکس پر لکھا تھا کہ پارلیمنٹ اجلاس کے بعد ہونے والی گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ ذاتی طور پر انہیں خواتین مخالف نہیں کہا جا سکتا، جس سے ریجیجو نے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بہتر نمائندگی کی حقدار ہیں، لیکن اسے حد بندی سے جوڑنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین یقیناً انسانی معاشرے کا بہتر حصہ ہیں وہ ایک طرح سے انسانوں کا بہتر ورژن ہیں۔ انہیں پارلیمنٹ اور ہر ادارے میں نمائندگی ملنی چاہیے، لیکن ان کی ترقی کو کسی ایسی حد بندی سے نہ جوڑا جائے جو ہماری جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 16 سے 18 اپریل تک منعقدہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے لیے نشستوں کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل (131واں ترمیمی بل) لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا، کیونکہ اسے آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ اپوزیشن نے خواتین کے ریزرویشن کو لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ اور حد بندی کے عمل سے جوڑنے کی مخالفت کی تھی۔