نئی دہلی: صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے آسام میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والی جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ صدر مرمو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، "آسام میں سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع اور وسیع پیمانے پر تباہی پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ میری دلی تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے۔ میں اس آفت سے متاثرہ تمام افراد کی سلامتی اور امدادی، بچاؤ اور بحالی کے کاموں میں مصروف تمام اہلکاروں کی خیریت کے لیے دعا گو ہوں۔ پوری قوم آسام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔"
دریں اثنا، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں فون کر کے ریاست میں سیلاب کی موجودہ صورت حال، تباہی کے حجم، جاری امدادی کارروائیوں اور درپیش چیلنجوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سرما نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو ریاستی حکومت کی جانب سے کیے جا رہے امدادی اقدامات اور ہر متاثرہ خاندان تک پہنچنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم نے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آسام کی اس قدرتی آفت کو مرکزی حکومت نے اعلیٰ ترین ترجیح دی ہے اور راحت، بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اس مشکل وقت میں وزیر اعظم کی یقین دہانی اور مسلسل تعاون پر آسام کے عوام کی جانب سے شکریہ بھی ادا کیا۔
ادھر آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 14 افراد کی ہلاکت کے بعد سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق حالیہ اموات میں 7 افراد ضلع چرائی دیو، 6 ضلع شیوساگر اور ایک ضلع جورہاٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ جاں بحق افراد میں 11 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ ضلع شیوساگر میں ایک شخص اب بھی لاپتا ہے۔ ریاست میں سیلاب کی صورت حال بدستور تشویشناک ہے۔ 12 اضلاع میں 7 لاکھ 5 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ان میں گولاگھاٹ، چرائی دیو، ڈبروگڑھ، ہوجائی، ناگاؤں، بشوناتھ، جورہاٹ، دھیمجی، شیوساگر، سونیت پور، کامروپ (میٹرو) اور کاربی آنگ لانگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شیوساگر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 3,48,555 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ چرائی دیو میں 1,88,404 اور جورہاٹ میں 1,26,793 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب کے باعث ریاست کے 856 دیہات اور 37 ریونیو سرکلز بھی متاثر ہوئے ہیں۔