نئی دہلی
اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ نے ارجنٹینا کے پہلے مائع قدرتی گیس برآمدی منصوبے سے ہندوستان کو گیس کی فراہمی کے لیے 10 سالہ میری ٹائم سروسز معاہدہ حاصل کر لیا ہے، جس کے ساتھ ہی کمپنی نے جنوبی امریکہ میں بھی اپنے کاروباری قدم جما دیے ہیں۔
یہ معاہدہ اے پی ایس ای زیڈکی ذیلی کمپنی اڈانی ہاربر انٹرنیشنل ایف زیڈ سی او کو ارجنٹینا کے میریڈیئن گروپ کے ساتھ مشترکہ کنسورشیم کے ذریعے دیا گیا۔ یہ ٹھیکہ سدرن انرجی ایس اے کی جانب سے منعقد کیے گئے عالمی مسابقتی ٹینڈر کے بعد حاصل ہوا۔ کمپنی کے مطابق اس منصوبے کے لیے تقریباً 7 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
معاہدے کے تحت کنسورشیم سدرن انرجی ایف ایل این جی منصوبے کے لیے مکمل بحری خدمات فراہم کرے گا۔ اس میں ایل این جی بردار جہازوں کے لیے ٹگ بوٹ آپریشنز، آف شور لاجسٹکس، سپلائی سپورٹ اور عملے کی منتقلی کی خدمات شامل ہیں۔ان سرگرمیوں کے لیے چار جدید ٹگ بوٹس، ایک اینکر ہینڈلنگ ٹگ سپلائی ویسل اور ایک کریو بوٹ استعمال کی جائے گی۔ یہ معاہدہ میریڈیئن ٹرانسپورٹس میریٹی موس ایس اے کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جو اڈانی ہاربر انٹرنیشنل ایف زیڈ سی او اور میریڈیئن گروپ کے درمیان 51:49 کے تناسب سے قائم مشترکہ ادارہ ہے۔
اشونی گپتا، جو اے پی ایس ای زیڈکے کل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، نے کہا کہ یہ منصوبہ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی معاونت کرنے کی ہماری بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ 12 ممالک میں ہماری بحری سرگرمیاں جاری ہیں اور بندرگاہوں، ایل این جی ٹرمینلز، قومی آئل کمپنیوں، ریفائنریوں اور آف شور تنصیبات کی خدمت کے لیے ہمارے بحری اثاثوں کا بیڑا مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے ہمیں پیچیدہ بحری ماحول میں وسیع عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔
ارجنٹینا اس وقت ایل این جی کی عالمی سپلائی میں ایک اہم نئے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پہلے ہی ایسے معاہدے کیے جا چکے ہیں جن کے تحت 2027 سے ہر سال 1 کروڑ ٹن تک ایل این جی ہندوستان برآمد کی جا سکے گی۔سدرن انرجی ایف ایل این جی منصوبہ اس نئی سپلائی کو عالمی منڈیوں کی طلب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ گولر ایل این جی اور پین امریکن انرجی کے مشترکہ ادارے ایس ای ایس اے کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔
اشونی گپتا نے مزید کہا کہ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ایک قابل اعتماد بحری نظام تشکیل دے رہے ہیں جو توانائی کی تجارت کے نئے راستے کھولنے اور طویل مدتی سپلائی کے استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا۔"
یہ منصوبہ ارجنٹینا کے صوبہ ریو نیگرو میں واقع سان ماتیاس خلیج میں قائم کیا جا رہا ہے، جہاں جنرل سان مارٹن پائپ لائن سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس کو ہِلی ایپیسیو نامی تیرتے ہوئے ایل این جی جہاز پر مائع شکل دی جائے گی۔
منصوبے کے تجارتی آپریشنز ستمبر 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
پہلے مرحلے میں یہ منصوبہ سالانہ 24 لاکھ 50 ہزار ٹن ایل این جی پیدا کرے گا، جو تقریباً 28 کارگو جہازوں کے برابر ہے۔ اس طرح یہ ارجنٹینا کا پہلا فعال ایل این جی برآمدی منصوبہ بن جائے گا۔