نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما سے فون پر رابطہ کرکے ریاست کے بعض علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور ہر ممکن مرکزی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حکام کے مطابق امت شاہ نے دریاؤں میں طغیانی کے باعث ہونے والے نقصانات اور موجودہ صورتحال سے متعلق تفصیلات بھی دریافت کیں۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے امت شاہ کو جاری امدادی اور بازآبادکاری اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر مرکزی وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ مرکزی حکومت اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ سرما نے کہا، "میں امت شاہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دھیمجی میں سیلاب کی صورتحال سے متعلق فون کر کے خیریت دریافت کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔"
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق ضلع دھیمجی کے چار ریونیو سرکلز کے 69 دیہات میں تقریباً 16 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اتوار کی شام وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ دھیمجی میں سیلاب کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور حکومت متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد اور طویل مدتی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
دوسری جانب نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ریلوے (این ایف آر) نے اعلان کیا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث دریا کے کٹاؤ سے ایک ریلوے پل کو نقصان پہنچنے کے بعد آرچی پاتھر اور سیمن چاپاری اسٹیشنوں کے درمیان تمام ٹرین سروسز غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کے مطابق 1965 میں تعمیر ہونے والا یہ پل اچھی حالت میں تھا، تاہم شدید بارش کے دوران دریا کے کنارے کا بڑا حصہ بہہ جانے سے پل کا ایک ستون غیر مستحکم ہو گیا، جس کے باعث احتیاطاً ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔