ایران میں مظاہروں کے درمیان وزارت خارجہ نے ہندوستانی شہریوں کے لیے دوسری ایڈوائزری جاری کی
نئی دہلی/ آواز دی وائس
ایران میں بگڑتے حالات کے پیشِ نظر ہندوستانی سفارت خانے نے وہاں مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں ایران میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔ کہا گیا ہے کہ جو بھی دستیاب ذرائع میسر ہوں، اُن کا استعمال کرتے ہوئے ایران سے نکل جائیں۔
تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ایران میں موجود ہندوستانی طلبہ، زائرین، تاجر اور سیاح ہوائی جہاز یا دیگر ذرائع کے ذریعے وہاں سے روانہ ہو جائیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران میں احتیاط برتیں، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت تمام امیگریشن دستاویزات اپنے پاس رکھیں، جہاں مظاہرے جاری ہوں وہاں جانے سے گریز کریں اور سفارت خانے کے مسلسل رابطے میں رہیں۔
ہندوستانی سفارت خانے نے ہنگامی مدد کے لیے کئی ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کیے ہیں تاکہ مشکل میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان نمبرز پر رابطہ کریں: +98 9128109115، +98 9128109109، +98 9128109102 اور +98 9932179359 مدد کے لیے ای میل آئی ڈی بھی جاری کی گئی ہے۔
اس سے قبل امریکہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے اسی نوعیت کی ایڈوائزری جاری کی تھی اور ایران میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ امریکی سفارت خانے نے کہا تھا کہ جو بھی ذرائع دستیاب ہوں اُن کے ذریعے ایران سے نکل جائیں۔ اگر فضائی خدمات دستیاب نہ ہوں تو زمینی راستے سے پڑوسی ممالک آرمینیا یا ترکی چلے جائیں۔
امریکی ورچوئل ایمبیسی نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پورے ایران میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں جو کسی بھی وقت پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایران کی حکومت نے موبائل، لینڈ لائن فون اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ سڑکوں کی ناکہ بندی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے ٹھپ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایران میں احتجاج دن بہ دن شدت اختیار کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق ملک کے تمام صوبوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 2500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کھل کر مظاہرین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مدد فراہم کرنے کی بات بھی کہی ہے۔