بغداد
عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک امریکی صحافی کو منگل کے روز اغوا کر لیا گیا۔ عراق کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر ملکی صحافی کو اغوا کیا گیا ہے، تاہم صحافی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر اغوا کاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فورسز نے اغوا کاروں کی ایک گاڑی کو روک لیا جو فرار ہونے کی کوشش میں الٹ گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑیوں میں سے ایک کو ضبط کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان اب بھی فرار ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں امریکی صحافی کے اغوا کا منظر دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون سڑک پر کھڑی نظر آتی ہیں کہ اسی دوران بغداد ہوٹل کے قریب السعدون اسٹریٹ پر کچھ افراد ایک گاڑی میں آتے ہیں اور صحافی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر فرار ہو جاتے ہیں۔
امریکی صحافی شیلی کِٹلسن کا اغوا
عراق کے مقامی میڈیا کے مطابق اغوا ہونے والی صحافی کی شناخت شیلی کِٹلسن کے طور پر ہوئی ہے، جو امریکی پاسپورٹ رکھتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بازیاب کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ شیلی کِٹلسن ایک فری لانس اور ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں، جو ایران کے خلاف جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کی کوریج کے لیے عراق گئی تھیں۔ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے پر آمادہ ٹرمپ
امریکی اخبار "دی وال اسٹریٹ جرنل" نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند بھی رہے تو وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ آبنائے ہرمز کو زبردستی کھلوانے کے لیے مہم چلانے سے تنازع ان کی مقررہ مدت یعنی چار سے چھ ہفتوں سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
خبر کے مطابق ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کی بحریہ کو کمزور کرنے اور اس کے میزائل ذخیرے کو نقصان پہنچانے جیسے بنیادی اہداف حاصل کرنے کے بعد موجودہ فوجی کشیدگی کو بتدریج ختم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تہران پر سفارتی دباؤ ڈال کر تجارتی راستوں کی بحالی کی کوشش کی جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ کوشش ناکام رہتی ہے تو امریکہ یورپ اور خلیجی خطے میں اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے آگے آئیں۔پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر اور پینٹاگون کے سربراہ نے ہمیشہ فوجی کارروائی کے لیے چار سے چھ ہفتوں کی متوقع مدت کا ذکر کیا ہے۔