نئی دہلی
کیرالہ میں متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کی انتخابی جیت کے بعد وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کو لے کر جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر ایم ایم حسن نے منگل کو کہا کہ کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے انتخاب میں اتحاد کا کوئی کردار نہیں ہے۔اتحادی جماعتوں کے موقف سے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر پڑنے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے حسن نے کہا کہ قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب کانگریس خود کرے گی۔
کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے سابق صدر نے پارٹی ہائی کمان کی جانب سے بلائی گئی میٹنگوں میں شرکت سے قبل نئی دہلی میں صحافیوں سے کہا کہ کانگریس خود اپنے قانون ساز پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کرے گی۔ اتحادی جماعتیں کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر کا انتخاب نہیں کرتیں۔
یہ بیان انہوں نے کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کے اہم اتحادی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کی دوڑ میں سینئر لیڈر وی ڈی ستیسن کی حمایت سے متعلق سوالات کے جواب میں دیا۔مرکزی قیادت کے ساتھ مشاورت کے لیے دہلی بلائے گئے سینئر لیڈروں میں شامل حسن نے وزیرِ اعلیٰ کے اعلان میں تاخیر پر ہونے والی تنقید کو بھی کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس عموماً انتخابات کے بعد قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب میں تقریباً ایک ہفتہ لیتی ہے اور اس عمل میں کسی قسم کی ’’غیر معمولی تاخیر‘‘ نہیں ہوئی ہے۔