امرتسر: اکال تخت کے جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج نے پیر کے روز پنجاب حکومت کو ہدایت دی کہ توہینِ مذہب سے متعلق قانون کی قابلِ اعتراض شقوں میں ایک ماہ کے اندر ترمیم کی جائے۔ اس موقع پر پنجاب کے تمام سکھ ارکانِ اسمبلی، جن میں وزراء بھی شامل تھے، طلبی کے بعد اکال تخت کے سامنے پیش ہوئے۔
اکال تخت میں ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جتھیدار گرگج نے جاگت جوت سری گرو گرنتھ صاحب ستکار (ترمیمی) ایکٹ 2026 پر متعدد اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ مناسب ترامیم ہونے تک اس قانون کے نفاذ کو مؤخر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ 15 جون کو جتھیدار گرگج نے تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سکھ ارکانِ اسمبلی اور سکھ وزراء کو طلب کیا تھا۔ اکال تخت کا مؤقف تھا کہ یہ قانون سکھ پنتھ سے مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا، اس لیے اس پر وضاحت ضروری ہے۔ اکال تخت پہلے بھی حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ قانون کی بعض شقیں حذف کی جائیں کیونکہ وہ گرو گرنتھ صاحب، خالصہ پنتھ اور سکھ سنگت کے جذبات کے خلاف ہیں۔
جتھیدار گرگج نے بتایا کہ اجلاس میں وزراء سمیت 87 ارکانِ اسمبلی شریک ہوئے۔ انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ ایک ماہ کے اندر مناسب ترامیم لا کر اعتراضات دور کیے جائیں اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی کو اعتراضات کی ایک فہرست بھی دی، جس میں "بیر" کی جگہ "سروپ" کی اصطلاح استعمال کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سکھ مذہبی اصطلاحات کا تعین کرنے کا اختیار پنجاب اسمبلی کو نہیں بلکہ صرف اکال تخت کو حاصل ہے۔ انہوں نے قانون میں "کسٹوڈینز" (نگہبانوں) اور گرو گرنتھ صاحب کے سروپ کے منفرد شناختی نمبر سے متعلق شقوں پر بھی اعتراض کیا، تاہم واضح کیا کہ گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کرنے والوں کو سخت سزا دینے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جتھیدار گرگج نے دعویٰ کیا کہ تمام ارکانِ اسمبلی نے ہاتھ اٹھا کر قانون میں ترامیم کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر کسی ڈیرے کے پیروکار سازش کے تحت گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کریں تو متعلقہ ڈیرہ سربراہ کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کی شق قانون میں شامل کی جائے۔
پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیما نے کہا کہ جتھیدار نے قانون میں ترامیم کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔ ان کے مطابق جتھیدار اپنی تجاویز پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے ذریعے بھیجیں گے، جن پر غور کے بعد ایک ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جاگت جوت سری گرو گرنتھ صاحب ستکار (ترمیمی) بل 2026 پنجاب اسمبلی نے 13 اپریل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا، جس میں گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے جرم پر عمر قید سمیت سخت سزاؤں کی تجویز شامل ہے۔
اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جتھیدار گرگج نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت پر مذہبی معاملات اور اکال تخت کے اختیارات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قانون کے ذریعے "گرو اور سکھ کے درمیان فاصلے پیدا کرنے" کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے حرمتی کے ملزمان کے لیے قانون بنایا جا سکتا ہے، لیکن گرو گرنتھ صاحب، سکھ سنگت اور سیواداروں پر کوئی قانون مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ جتھیدار نے ایس جی پی سی کی ویب سائٹ پر ان افراد کی معلومات عام کرنے پر بھی اعتراض کیا جن کے پاس گرو گرنتھ صاحب کے مقدس نسخے موجود ہیں۔ ان کے مطابق اس سے عقیدت مند سکھوں کی ذاتی معلومات منظر عام پر آ سکتی ہیں، جنہیں شرپسند عناصر غلط مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔