ایئر انڈیا اے آئی-171 حادثہ: ایک سال بعد بھی غم، معاوضے اور انصاف کی تلاش جاری

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 11-06-2026
ایئر انڈیا اے آئی-171 حادثہ: ایک سال بعد بھی غم، معاوضے اور انصاف کی تلاش جاری
ایئر انڈیا اے آئی-171 حادثہ: ایک سال بعد بھی غم، معاوضے اور انصاف کی تلاش جاری

 



نئی دہلی: ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ سال 12 جون کو احمد آباد میں پیش آنے والے المناک طیارہ حادثے، پرواز اے آئی-171، سے متاثرہ بیشتر خاندانوں کو عبوری معاوضے کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے۔ اس سانحے کو ایک سال گزر چکا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی یادوں کے ساتھ انصاف اور جوابدہی کے منتظر ہیں۔

ایئر انڈیا کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کو فوری مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے فی خاندان 25 لاکھ روپے بطور عبوری معاوضہ فراہم کیے گئے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک 96 فیصد متاثرہ خاندانوں کو یہ رقم ادا کی جا چکی ہے، جبکہ چند معاملات میں دستاویزات کی عدم تکمیل یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے ادائیگیاں باقی ہیں۔

اسی طرح زمین پر زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو بھی ان کی چوٹوں اور مالی نقصان کے مطابق عبوری یا مکمل معاوضہ فراہم کیا جا چکا ہے۔ ایئر لائن نے واضح کیا ہے کہ عبوری معاوضے کی ادائیگی کے بعد اب حتمی معاوضے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جا رہا کہ وہ کسی مقررہ مدت کے اندر معاوضے کی پیشکش قبول کریں۔

حادثے کے بعد ٹاٹا گروپ نے بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ ٹاٹا سنز نے "اے آئی-171 میموریل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ" قائم کیا، جس کا مقصد متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی معاونت کرنا ہے۔ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکرن نے اعلان کیا تھا کہ ہر جاں بحق فرد کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کی خصوصی مالی امداد دی جائے گی، جو قانونی معاوضے سے الگ اور اضافی ہے۔

کمپنی کے مطابق اب تک 91 فیصد خاندانوں کو یہ امدادی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔ حادثے کے بعد ایک اہم اور حساس مرحلہ متوفیوں کے ذاتی سامان کی واپسی کا بھی تھا۔ ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ اس عمل کو انتہائی احترام، احتیاط اور شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے مقام سے 22 ہزار سے زائد ذاتی اشیا محفوظ کی گئیں اور ان کی مکمل فہرست مرتب کی گئی۔ ہر خاندان کو ای میل کے ذریعے متعلقہ معلومات فراہم کی گئیں اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ بھی قائم کی گئی۔ اب تک متعدد خاندانوں کو ان کے پیاروں کا سامان واپس کیا جا چکا ہے، جبکہ کچھ معاملات میں دستاویزی پیچیدگیاں یا اہلِ خانہ کی جانب سے سامان وصول نہ کرنے کی وجوہات سامنے آئی ہیں۔

حادثے کے مقام سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات، جن میں موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک اشیا شامل تھیں، ان کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔ کمپنی کے مطابق کئی آلات ان کے اصل مالکان کے خاندانوں کو واپس کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی کیسز زیرِ کارروائی ہیں۔ ایئر انڈیا نے حادثے کے بعد امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔

کمپنی کے مطابق ٹاٹا گروپ کی مختلف کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد رضاکار فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں شریک ہوئے تھے۔ ہر متاثرہ خاندان کے لیے ایک خصوصی معاون مقرر کیا گیا تھا، جو چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رابطے میں رہا۔ احمد آباد میں قائم خصوصی ہیلپ ڈیسک نے دو ماہ سے زائد عرصے تک خاندانوں کو دستاویزی کارروائیوں، معاوضے کے دعووں اور دیگر ضروری امور میں مدد فراہم کی۔

اس سانحے کی انسانی قیمت کا اندازہ ان خاندانوں کے دکھ سے لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ گجرات کے رہائشی انیل کمار پٹیل، جنہوں نے اس حادثے میں اپنے بیٹے ہرشیت پٹیل اور بیٹی پوجا پٹیل کو کھو دیا، آج بھی اس دن کو یاد کرکے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے سے چند گھنٹے قبل ان کی اپنے بچوں سے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی اور وہی ان کی آخری گفتگو ثابت ہوئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فضائی سفر کے حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی خاندان کو اس طرح کے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

واضح رہے کہ 12 جون 2025 کو ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171، جو بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ تھی، احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز بھرنے کے چند لمحوں بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس دل خراش حادثے میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں 229 مسافر، 12 عملے کے ارکان اور زمین پر موجود 19 افراد شامل تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی شامل تھے۔ سرکاری حکام کے مطابق حادثے کی تحقیقات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور اس کی حتمی رپورٹ جلد جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

متاثرہ خاندانوں اور عوام کی نظریں اس رپورٹ پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک معاوضہ اہم ضرور ہے، لیکن اصل ضرورت اس سانحے کی وجوہات جاننے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود یہ حادثہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک دردناک یاد اور ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔