ایویان
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران "مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، تیز اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے" کے موضوع پر منعقدہ آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کیا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایسی انقلابی قوت ہے جو انسانی تہذیب کی سمت کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس کا مقصد انسانوں کو بااختیار بنانا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسی وسیع سوچ کے تحت حال ہی میں ہندوستان نے "اے آئی امپیکٹ سمٹ" (مصنوعی ذہانت اثرات سربراہی اجلاس) کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے اے آئی کے حوالے سے ہندوستان کے انسان مرکز "مانَو" وژن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی بنیاد شمولیت، سلامتی اور عوامی فلاح کے اصولوں پر ہونی چاہیے۔
یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہندوستان نے ہمیشہ سائبر اسپیس کو ایک عالمی عوامی اثاثہ تصور کیا ہے، وزیرِ اعظم نے کہا کہ جمہوری ممالک کو ایسے اے آئی ماڈلز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو ان کے اہم معلوماتی ڈھانچے کو محفوظ بنا سکیں اور سائبر خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک مربوط نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں سلامتی، رفتار اور کارکردگی کو بیک وقت مدنظر رکھا جائے۔
اس سلسلے میں انہوں نے چار تجاویز پیش کیں
اے آئی نظاموں کو ابتدا ہی سے محفوظ بنایا جائے۔
اے آئی کے نفاذ کے ساتھ مشترکہ معیارات، جانچ کے فریم ورک اور ضابطہ جاتی رہنما اصول وضع کیے جائیں۔
ڈیپ فیک (جعلی مصنوعی ویڈیوز اور تصاویر)، غلط معلومات اور سائبر دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیے مؤثر عالمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
اے آئی کے فوائد عالمی جنوب کے ممالک تک بھی پہنچائے جائیں تاکہ ایک جامع اور مساوی دنیا کی تشکیل ممکن ہو سکے۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے، انسانی انتخاب کو مضبوط بنانا چاہیے اور انسانی وقار کا تحفظ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان مقاصد کے فروغ کے لیے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
دریں اثنا، وزیرِ اعظم مودی نے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے حوالے سے مفاہمت پیدا ہوئی۔ وزیرِ اعظم نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی سرگرمیوں کی بلا رکاوٹ روانی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سمندری عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔
دونوں رہنماؤں نے فروری 2025 میں واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی ملاقات کے بعد ہندوستان-امریکہ کمپیکٹ (فوجی شراکت داری، تیز رفتار تجارت اور ٹیکنالوجی کے مواقع کو فروغ دینے کا معاہدہ) کے تحت حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دفاع، اسٹریٹجک ٹیکنالوجی، توانائی اور دوطرفہ تجارت کے شعبوں میں ہونے والی اہم پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رہنماؤں نے عبوری دوطرفہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے حکام کو ہدایت دی کہ جلد از جلد ایک متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند اور تجارتی اعتبار سے مؤثر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کریں گے۔
وزیرِ اعظم مودی اور صدر ٹرمپ نے ہندوستان-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک اور ان کے عوام کے باہمی مفاد کے لیے ہر شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔