اندور/ آواز دی وائس
اندور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) نے ملک کے ٹریفک مینجمنٹ نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق اسمارٹ اور محفوظ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ حکام نے پیر کے روز یہ جانکاری دی۔
انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑی چلانے والوں کو بروقت ضروری پیغامات بھیج کر ممکنہ سڑک حادثات کو روکا جا سکے گا اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ آئی آئی ٹی اندور کے الیکٹریکل انجینئرنگ شعبے کے پروفیسر پربھات کمار اپادھیائے نے ایسے وقت میں جب دنیا بغیر ڈرائیور والی گاڑیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، ملک کے ٹریفک نظام کو اسمارٹ اور محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے اے آئی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے اگلی نسل کے ٹریفک مینجمنٹ نظام کے لیے ایک نئی تکنیک تیار کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو ’سیلولر وہیکل ٹو ایوری تھنگ (سی-وی2ایکس)’ کا نام دیا گیا ہے۔ اپادھیائے کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے چلتی گاڑیاں دوسری گاڑیوں کو آسانی سے پیغامات بھیج سکیں گی، جس سے ممکنہ سڑک حادثات اور ٹریفک جام کو روکا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ فرض کریں آپ کار چلا رہے ہیں، تو یہ ٹیکنالوجی خراب سڑک، آگے پیش آنے والے حادثات اور ٹریفک جام کے بارے میں فوری طور پر آپ کی گاڑی کو اطلاع دے دے گی تاکہ آپ وقت رہتے ہوشیار ہو سکیں۔ یہ پیغامات 4جی ایل ٹی ای اور 5جی جیسے تیز رفتار وائرلیس نیٹ ورک کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔ اپادھیائے نے مزید بتایا کہ تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے محققین نے ’انٹیلیجنٹ ریسورس الاٹمنٹ الگورتھم‘ تیار کیے ہیں، جو حقیقی وقت میں ٹریفک کی صورتحال، نیٹ ورک کے دباؤ اور سگنل کے معیار کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں، تاکہ اہم پیغامات فوراً پہنچائے جا سکیں۔
آئی آئی ٹی اندور کے ڈائریکٹر پروفیسر سہاس جوشی نے کہا کہ سڑکوں کی حفاظت اور پائیدار نقل و حرکت ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ سی-وی2ایکس ٹیکنالوجی پر کیا گیا یہ تحقیقی کام محفوظ سڑکوں اور اسمارٹ شہروں کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی اندور کی یہ تحقیق اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح مواصلاتی ٹیکنالوجی کی جدید شکلیں سڑکوں پر جانیں بچانے، ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور مستقبل کی نقل و حرکت کے لیے ملک کی تیاری کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔