نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کے روز کہا کہ آئین کی دفعہ 370 اور 35(A) کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ میں امن، ترقی اور مساوی مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے وژن کی تکمیل ہے اور اس سے ایک خوشحال جموں و کشمیر، ترقی یافتہ لداخ اور وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کی تعمیر کے لیے ملک کے عزم کی توثیق ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں راج ناتھ سنگھ نے کہا: "دفعہ 370 اور 35(A) کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے پر جموں و کشمیر اور لداخ میں امن، ترقی اور مساوی مواقع کا ایک نیا دور طلوع ہوا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ہندوستان کے اتحاد کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
Seven years since the abrogation of Articles 370 and 35(A), a new era of peace, progress and equal opportunity has dawned for Jammu & Kashmir and Ladakh.
— Rajnath Singh (@rajnathsingh) August 5, 2026
As we also commemorate the 125th birth anniversary of Dr. Syama Prasad Mookerjee, we salute his unwavering commitment to…
ان کا خواب 5 اگست 2019 کو تاریخی طور پر پورا ہوا۔ ایک مشترکہ مقصد اور مضبوط عزم کے ساتھ ہندوستان خوشحال جموں و کشمیر، ترقی یافتہ لداخ اور وکست بھارت کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔" قابلِ ذکر ہے کہ 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی درجہ ختم کرتے ہوئے دفعہ 370 اور 35(A) کو منسوخ کر دیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر (قانون ساز اسمبلی کے ساتھ) اور لداخ (بغیر قانون ساز اسمبلی) میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کہا کہ سات سال قبل دفعہ 370 اور 35(A) کی منسوخی نے جموں و کشمیر اور لداخ کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن نئے باب کا آغاز کیا تھا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے لکھا: "آج ہی کے دن سات سال قبل دفعہ 370 اور 35(A) تاریخ کا حصہ بن گئیں، جس سے جموں و کشمیر اور لداخ کے سفر میں ایک فیصلہ کن نئے باب کا آغاز ہوا۔" وزیر اعظم نے کہا کہ اس آئینی تبدیلی کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، کاروبار، کھیل اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ: "خواتین اور سماج کے محروم طبقات، جو کئی دہائیوں تک اپنے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رہے، اب ہندوستانی آئین کے مکمل نفاذ کی بدولت بااختیار بنے ہیں۔"