واشنگٹن ڈی سی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اندرونی طور پر دباؤ کو جذب کر لینا خصوصاً مایوسی کے احساسات، عمر رسیدہ افراد میں یادداشت کی کمی کو تیز کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق خاص طور پر چینی نژاد امریکی بزرگوں پر کی گئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جذبات کو اندر ہی اندر دبانا دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ مطالعہ جرنل آف پریوینشن آف الزائمرز ڈیزیز میں شائع ہوا اور اسے روٹجرز انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ کے محققین نے انجام دیا۔ اس تحقیق میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔
محققین کے مطابق بعض ثقافتی توقعات اور سماجی دباؤ ذہنی صحت کے مسائل کو چھپا دیتے ہیں۔ خاص طور پر “ماڈل مائنارٹی” جیسے تصورات لوگوں پر کامیابی اور مضبوطی کا دباؤ بڑھاتے ہیں جس کے باعث اندرونی ذہنی مشکلات ظاہر نہیں ہو پاتیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اندرونی طور پر دباؤ کو جذب کرنا اور مایوسی کا احساس یادداشت میں کمی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ تاہم کمیونٹی سپورٹ یا سماجی تعلقات جیسے عوامل کا یادداشت کی خرابی سے واضح تعلق نہیں ملا۔
مطالعے کی مرکزی محقق مشیل چن نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد میں ذہنی دباؤ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے حالانکہ یہ دماغی صحت کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق چونکہ یہ ذہنی کیفیتیں تبدیل کی جا سکتی ہیں، اس لیے ایسے پروگرام تیار کیے جانے چاہئیں جو بزرگ افراد کے لیے ثقافتی لحاظ سے حساس ہوں اور ان کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیں۔ اس سے یادداشت اور مجموعی دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔