تائپے
این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف ایک اختراعی ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ منافع اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔فوکس تائیوان کے مطابق جینسن ہوانگ تائیوان میں این 1 ایکس پروسیسر کی رونمائی کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ یہ نیا پروسیسر پرسنل کمپیوٹر (پی سی) مارکیٹ میں بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں این ویڈیا کے طاقتور بلیک ویل جی پی یو کو 20 کور سی پی یو کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس سے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں پر ایسے ایجنٹک اے آئی ٹولز چلائے جا سکیں گے جو بڑے لینگویج ماڈلز کو سپورٹ کریں گے اور گیمنگ کے ساتھ اے آئی کا بہتر تجربہ فراہم کریں گے۔
ہوانگ نے کہا کہ اے آئی اب منافع پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی بن گئی ہے۔ اے آئی اب جی ڈی پی پیدا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اے آئی ٹوکنز اب آمدنی پیدا کرنے والی منافع بخش اکائیاں بن گئے ہیں۔این ویڈیا ایسی اے آئی چپس تیار کرتی ہے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ انہی ڈیٹا سینٹرز کی مدد سے چیٹ جی پی ٹی اور کلاڈ جیسے بڑے اے آئی ماڈلز کو تربیت دی جاتی ہے۔
ملازمتوں پر اے آئی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں ہوانگ نے کہا کہ جدت اور پیداواری صلاحیت میں اضافے، خصوصاً اے آئی کوڈنگ کے میدان میں ترقی، کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کمپنیاں مزید سافٹ ویئر انجینئرز بھرتی کریں گی۔ان کے مطابق جیسے جیسے اداروں میں اے آئی ٹولز اور ایجنٹک اے آئی کی ضرورت بڑھے گی، کمپنیاں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کریں گی، جس کے نتیجے میں زیادہ پیداوار اور بہتر کارکردگی کے لیے مزید انجینئرز کی ضرورت ہوگی۔ہوانگ نے موجودہ "ایجنٹک انقلاب" پر زور دیتے ہوئے پیش گوئی کی کہ مستقبل میں اربوں اے آئی ایجنٹس کاروباروں، صنعتوں اور گھروں کے مختلف نظاموں کو چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی ایجنٹس کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔این ویڈیا کی پرسنل کمپیوٹرز کے لیے نئی اے آئی سپر چپ رواں سال خزاں کے موسم میں متعارف کرائی جائے گی۔ یہ چپ اے ایم ڈی، انٹیل اور ایپل جیسی کمپنیوں کی مصنوعات کو سخت مقابلہ دے گی۔
جینسن ہوانگ نے کہا کہ مائیکروسافٹ کے ساتھ اشتراک میں تیار کی جانے والی یہ نئی ٹیکنالوجی اے آئی کے اس نئے دور میں پرسنل کمپیوٹرز کی دنیا کو مکمل طور پر بدل دے گی۔