کیرالہ کو بدنام کرنے یا منفی دکھانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں: 'دی کیرالہ اسٹوری 2' پروڈیوسر

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 28-02-2026
کیرالہ کو بدنام کرنے یا منفی دکھانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں: 'دی کیرالہ اسٹوری 2' پروڈیوسر
کیرالہ کو بدنام کرنے یا منفی دکھانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں: 'دی کیرالہ اسٹوری 2' پروڈیوسر

 



ممبئی
 فلم ساز وپل شاہ نے جمعہ کے روز کہا کہ فلم دی کیرالا اسٹوری 2: گوز بیونڈ کیرالا یا وہاں کے لوگوں کو منفی انداز میں پیش نہیں کرتی۔ یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب کیرالا ہائی کورٹ نے فلم کی ریلیز کی راہ ہموار کی۔
جسٹس سشروت اروند دھرمادھیکاری اور جسٹس پی وی بالاکرشنن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس سنگل جج کے حکم پر روک لگا دی جس کے تحت فلم کی نمائش 15 دن کے لیے معطل کی گئی تھی۔ بنچ نے جمعرات کی رات دیر گئے شاہ کی جانب سے دائر اپیل پر عبوری حکم جاری کیا، جو فلم کی ریلیز پر عائد پابندی کے فوراً بعد پیش کی گئی تھی۔
ہائی کورٹ کے حکم کے فوراً بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، شاہ—جنہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی سن شائن پکچرز کے بینر تلے فلم کی تحریر میں حصہ لیا اور اسے پروڈیوس کیا—نے کہا کہ یہ فلم سخت محنت اور دیانت داری کے ساتھ بنائی گئی ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا كہ نہ ہماری فلم، نہ میں اور نہ ہی میری ٹیم کیرالا ریاست کے خلاف ہے—جو کہ خدا کی اپنی سرزمین ہے۔ یہ ایک خوبصورت اور شاندار ریاست ہے، لیکن اگر وہاں کچھ غلط ہو رہا ہے تو میں صرف اسے عوام کی توجہ میں لا رہا ہوں۔ فلم دیکھنے کے بعد آپ خود دیکھیں گے کہ ہم نے کیرالا یا وہاں کے لوگوں کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کہی۔پروڈیوسر کے مطابق، مذہبی تبدیلی کے موضوع پر بنی یہ فلم “کچھ مجرموں کو بے نقاب کرتی ہے جو کیرالا، مدھیہ پردیش اور راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا كہ اسی لیے فلم کا نام ‘دی کیرالا اسٹوری 2: گوز بیونڈ’ رکھا گیا ہے۔ ہم کیرالا یا اس کے لوگوں کو بدنام کرنے یا منفی طور پر دکھانے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہماری فلم ثقافتی طور پر مالامال اس ریاست کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ہندی فلم کا ٹریلر، جس کی ہدایت کاری کامکھیا نارائن سنگھ نے کی ہے، اسی ماہ کے آغاز میں جاری ہوا تھا اور 2023 میں آنے والی پہلی فلم کی طرح ایک بڑے تنازعے کا سبب بنا۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کئی افراد نے اسے نفرت انگیز پروپیگنڈا قرار دیا۔
فلم میں تین مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والی تین ہندو خواتین کی کہانیاں دکھائی گئی ہیں جو اپنے خاندانوں کے خلاف جا کر مسلم مردوں سے شادی کرتی ہیں اور بعد میں انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔فلم جمعہ کو ریلیز ہونا تھی، تاہم عدالتی حکم کے باعث صبح کے شوز منسوخ کر دیے گئے تھے۔ بعد ازاں شوز اور بکنگ دوبارہ کھول دی گئی۔
شاہ نے کہا كہ میں خود سماعت کے وقت موجود نہیں تھا۔ میں عوام کے درمیان تھا، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مؤقف معزز جج کو قائل کرنے کے لیے کافی تھا، اسی لیے پابندی ہٹا دی گئی۔ میں حکم نامہ تفصیل سے پڑھنا چاہوں گا—یہ ابھی آیا ہے اور کافی طویل ہے—اس لیے مجھے وقت لگے گا۔ جج اس بات پر قائل تھے کہ ہمارا قانونی مؤقف درست ہے۔فلم ساز انوراگ کشیپ کی جانب سے فلم کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اسے لوگوں کو تقسیم کرنے والی پروپیگنڈا فلم قرار دینے پر، شاہ نے ان کی ساکھ پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا كہ میں انوراگ کشیپ پر ذاتی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ان کی رائے ہے۔ لیکن میرے ہدایت کار نے ایک جائز نکتہ اٹھایا کہ انوراگ نے ‘دی گرل اِن ییلو بوٹس’ بنائی تھی، جس میں باپ اور بیٹی کے درمیان نامناسب تعلق دکھایا گیا تھاتو کیا اس موضوع پر ان کی رائے کو سنجیدگی سے لیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال میرے ہدایت کار کامکھیا نے اٹھایا تھا۔ میں امید کر رہا تھا کہ وہ جواب دیں گے، لیکن اب تک نہیں دیا۔ ہمیں امید ہے کہ اگلے چند دنوں میں وہ کچھ کہیں گے۔
شاہ نے الزام لگایا کہ ایک “لابی” ہے جو انہیں مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا كہ انہوں نے پہلی فلم کے وقت بھی ہم سے سخت مخالفت کی تھی، اور اس بار بھی رویہ وہی ہے۔ ٹوئٹر پر پورے ہندوستان سے لوگ فلم کی حمایت میں بات کرتے ہیں، لیکن مخالفت زیادہ تر کیرالا سے آتی ہے—80 فیصد سے زیادہ مخالفت وہیں سے ہے
ان کا کہنا ہے کہ کیرالا میں لو جہاد کی کوئی کہانیاں نہیں ہیں اور ہم جو دکھا رہے ہیں وہ جھوٹ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت سی کہانیاں زیرِ بحث رہتی ہیں۔ اس لیے ہم کوئی غلط بات نہیں کر رہے۔
پہلی فلم دی کیرالا اسٹوری کی ہدایت کاری سدپتو سین نے کی تھی اور مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں پابندی کے باوجود اس نے 300 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔ اس کے علاوہ فلم نے بہترین ہدایت کاری اور بہترین سنیماٹوگرافی کے قومی فلم ایوارڈز بھی جیتے۔
اس سیکوئل میں اُلکا گپتا، آدتی بھاٹیہ اور ایشوریہ اوجھا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔