نئی دہلی
بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ ہیما مالنی نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق ترمیمی بلوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلموں میں ایسے کئی کردار ادا کیے ہیں جن سے خواتین، خاص طور پر دیہی خواتین کو خود مختار بننے کی ترغیب ملی۔
ہیما مالنی نے خواتین ریزرویشن سے متعلق آئین (131واں ترمیمی) بل 2026، حد بندی بل 2026 اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے قوانین میں ترمیمی بل 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا، “فلموں میں پہلے لڑکیاں کام نہیں کرتی تھیں۔ مرد ہی خواتین کے کپڑے پہن کر کردار ادا کرتے تھے۔ بعد میں مینا کماری، نرگس اور مدھوبالا جیسی اداکارائیں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بطور اداکارہ اور رقاصہ بہت جدوجہد کی ہے اور اسی کے بعد انہیں یہ مقام حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ میری پہلی فلم ‘سپنوں کا سوداگر’ میں میں نے بنجارن کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد ‘سیتا اور گیتا’ میں گیتا کا کردار سب کو یاد ہے۔ ‘شعلے’ میں میں نے بسنتی کا مشہور کردار ادا کیا جو تانگہ چلا کر اپنی روزی کماتی تھی۔ ایک فلم میں میں نے پولیس افسر کا کردار بھی نبھایا۔
ہیما مالنی نے کہا کہ میں نے ایسے کئی کردار ادا کیے جن سے دیہی خواتین کو خود مختار بننے کی ترغیب ملی۔انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن سے متعلق یہ بل ہر اس عورت کے لیے ہے جو اپنی شناخت اور عزت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے صرف قانون بنانا کافی نہیں، بلکہ سماج کی سوچ بدلنا ہوگی اور بیٹیوں کو برابر مواقع دینا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سبھی کو سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر اس بل کی حمایت کرنی چاہیے۔