میں مکمل طور پر گنجا ہوں:ہنی سنگھ کا انکشاف

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 27-05-2026
میں مکمل طور پر گنجا ہوں:ہنی سنگھ کا انکشاف
میں مکمل طور پر گنجا ہوں:ہنی سنگھ کا انکشاف

 



ممبئی 
گلوکار اور ریپر یو یو ہنی سنگھ نے ایک بار پھر اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے منشیات کی لت، بائپولر ڈس آرڈر اور اس کے نتیجے میں ہونے والے شدید جسمانی و ذہنی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ مکمل طور پر گنجے ہو چکے ہیں اور اب وِگ استعمال کرتے ہیں۔
 ہنی سنگھ نے بتایا کہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل ان کے کیریئر کے عروج کے زمانے میں شروع ہوئے تھے۔ طویل علاج، تنہائی اور مسلسل جدوجہد کے بعد وہ آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ بیماری کی ابتدائی علامات اس وقت ظاہر ہوئیں جب وہ ایک طرف ممبئی میں میوزک ریئلٹی شو کر رہے تھے اور دوسری جانب امریکہ میں بین الاقوامی ٹور پر تھے۔ اسی دوران انہیں اچانک شدید خوف اور پیرانویا (وہم اور شکوک) محسوس ہونے لگا۔
ہنی سنگھ نے کہا کہ میں ممبئی میں میوزک ریئلٹی شو کر رہا تھا اور امریکہ میں شاہ رخ بھائی کے ساتھ ٹور پر تھا۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ میں شکاگو میں تھا، میرے ساتھ ایک شخص تھا جس نے کہا کہ تمہیں ریہرسل کے لیے جانا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نہیں جا سکتا۔ شاہ رخ بھائی نے فون کرکے پوچھا کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ میں ٹھیک ہو جاؤں گا، اسٹیج پر ملوں گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ پرفارمنس سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ انہیں مسلسل یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ وہ اسٹیج پر ہی مر جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں اسٹیج پر مر جاؤں گا اور میں یہی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح پرفارم کرنے سے بچ جاؤں۔ اسی لیے میں نے اپنے سر کے آدھے بال منڈوا لیے، لیکن لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو کیپ پہنا دیں گے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی میری بات سمجھ ہی نہیں رہا۔
ہنی سنگھ نے اس دور کی ذہنی اور جذباتی اذیت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شدید بے بسی کا شکار تھے، حالانکہ وہ مسلسل اپنی کیفیت دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ذہنی بیماری اور بائپولر ڈس آرڈر کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک سماجی زندگی سے مکمل طور پر کٹ گئے تھے اور خود کو گھر تک محدود کر لیا تھا۔
سات سال تک گھر میں بند رہے
ہنی سنگھ نے کہا کہ میں نے اپنی بہن کو فون کیا اور کہا کہ میرے ساتھ کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی تمہیں شو کرنا ہوگا۔ میں نے دو گانے گائے اور شو ادھورا چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں سات سال تک گھر کے اندر ہی رہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے مداح مجھے اس حالت میں دیکھیں۔ میں نے خود کو گھر میں بند کر لیا اور اپنے بچپن کے دوستوں سے بھی نہیں ملا۔ نہ کوئی بات چیت تھی، نہ فون کال، نہ ٹی وی اور نہ انٹرنیٹ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ میرے اندر کوئی شیطان بول رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً تین سال تک وہ اپنے بیڈروم سے بھی باہر نہیں نکلے۔
تین سال تک میں اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ یہاں تک کہ نہاتے وقت بھی باتھ روم کا دروازہ کھلا رکھتا تھا کیونکہ مجھے ڈر لگتا تھا کہ کہیں میں مر نہ جاؤں۔ بائپولر ڈس آرڈر انسان کو ایسے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے جو حقیقت نہیں ہوتے، لیکن اس وقت وہ بالکل حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔
لگتا تھا کہ میں مر چکا ہوں
ہنی سنگھ نے بتایا کہ 2018 اور 2019 میں ان کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی۔مجھے لگتا تھا کہ میں پہلے ہی مر چکا ہوں اور جنت و جہنم کے درمیان کہیں پھنس گیا ہوں۔ میری والدہ مجھے کھانا دیتی تھیں اور مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ میری زندگی کا آخری کھانا ہے۔
وزن 105 کلو ہو گیا، تمام بال جھڑ گئے
اپنی صحت یابی کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر تبدیل کرنے اور نئی ادویات شروع کرنے کے بعد ان کی حالت میں بہتری آنا شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ میں سات سال تک ایک ہی دوا استعمال کرتا رہا لیکن فائدہ نہیں ہوا۔ جب میں نے گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تو میں نے ڈاکٹر بھی تبدیل کیا۔ نئی دوائیں شروع ہوئیں اور خوراک میں تبدیلی کی گئی۔ صرف چار ہفتوں میں مجھے بہتری محسوس ہونے لگی۔ میں سات سال تک بھاری دوائیں لیتا رہا۔ میرا وزن 105 کلوگرام تک پہنچ گیا اور میرے تمام بال جھڑ گئے۔ یہ وِگ ہے، میں مکمل طور پر گنجا ہوں۔
ہنی سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ انہوں نے 2014 میں منشیات کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود مکمل صحت یابی میں انہیں مزید سات سے آٹھ سال لگ گئے۔
انہوں نے کہا کہ آپ یقین نہیں کریں گے، لیکن 2014 میں منشیات چھوڑنے کے بعد بھی مجھے مکمل طور پر سنبھلنے میں سات سے آٹھ سال لگ گئے۔