نئی دہلی
بالی ووڈ کے مشہور اداکار انوبھم کھیر نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں سے جڑا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس نے ایک بار پھر فلم انڈسٹری کی جدوجہد اور غیر یقینی حالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ انوبھم کھیر نے انکشاف کیا کہ ان کی پہلی بڑی فلم “ساراںش” کی شوٹنگ شروع ہونے سے بالکل پہلے ہدایت کار مہیش بھٹ انہیں فلم سے نکالنا چاہتے تھے۔ اس واقعے نے انہیں اس قدر دُکھی کیا کہ انہوں نے مہیش بھٹ کو ’’دنیا کا سب سے بڑا دھوکے باز‘‘ تک کہہ دیا تھا۔
سال 1984 میں ریلیز ہونے والی فلم “ساراںش” کو ہندی سنیما کی ان فلموں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے جذباتی اور سماجی موضوعات کو بہت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اس فلم میں انوبھم کھیر نے ایک بزرگ شخص کا کردار ادا کیا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس وقت ان کی عمر کافی کم تھی، لیکن انہوں نے اپنے کردار کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے مہینوں محنت کی۔
انوبھم کھیر نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک اس کردار کی تیاری کی۔ وہ روزانہ بزرگوں کی چال، بول چال، انداز اور طرزِ زندگی کا مشاہدہ کرتے تھے۔ انہوں نے لاٹھی کے ساتھ چلنے کی مشق کی، اپنی آواز بدلنے کی کوشش کی اور خود کو مکمل طور پر اس کردار میں ڈھال لیا۔ ان کے لیے یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کا موقع تھا۔
لیکن جب شوٹنگ شروع ہونے میں صرف چند دن باقی تھے تو انہیں پتہ چلا کہ ان کی جگہ اُس دور کے نامور اداکار سنجیو کمار کو لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ خبر سن کر انوبھم کھیر مکمل طور پر ٹوٹ گئے۔ انہیں لگا کہ ان کے ساتھ بہت بڑا ناانصافی ہو رہی ہے۔ اس وقت وہ مالی اور ذہنی دونوں طرح سے شدید مشکلات میں تھے اور یہ فیصلہ ان کے خوابوں پر گہرا وار تھا۔
انوبھم کھیر نے بتایا کہ انہوں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ممبئی چھوڑ دیں گے۔ انہیں لگنے لگا تھا کہ یہ شہر صرف خواب دکھاتا ہے مگر انہیں پورا نہیں کرتا۔ تاہم، ممبئی چھوڑنے سے پہلے انہوں نے ایک آخری بار مہیش بھٹ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سیدھے ہدایت کار کے گھر پہنچے اور وہاں انہوں نے اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دی۔
غصے اور مایوسی میں انوبھم کھیر نے مہیش بھٹ سے کہا کہ وہ فلموں میں سچائی اور ایمانداری کی باتیں کرتے ہیں، لیکن اصل زندگی میں ان کے اندر نہ سچائی ہے اور نہ ایمانداری۔ انہوں نے مہیش بھٹ کو ’’دھوکے باز‘‘ بھی کہہ دیا۔ انوبھم کا یہ انداز دیکھ کر مہیش بھٹ بھی حیران رہ گئے۔
لیکن اسی واقعے نے کہانی کا رخ بدل دیا۔ انوبھم کھیر کی آنکھوں میں جدوجہد، درد اور اپنے خوابوں کو بچانے کا جذبہ واضح تھا۔ مہیش بھٹ ان کے جذبے اور سچائی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے فوراً فیصلہ بدل دیا اور پروڈیوسرز سے کہا کہ یہ کردار صرف انوبھم کھیر ہی ادا کریں گے۔
اس کے بعد “ساراںش” ریلیز ہوئی اور اس فلم نے انوبھم کھیر کو راتوں رات پہچان دے دی۔ ان کی اداکاری کو زبردست سراہا گیا اور یہی فلم ان کے شاندار کیریئر کی مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔ آج بھی یہ واقعہ اس بات کی مثال سمجھا جاتا ہے کہ بعض اوقات غصہ اور خوداعتمادی انسان کی قسمت بدل سکتے ہیں۔