ممبئی
بالی ووڈ کے ’’مسٹر پرفیکشنسٹ‘‘ عامر خان ان دنوں مسلسل پیشہ ورانہ ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بطور اداکار اور پروڈیوسر ان کے کئی منصوبے ناظرین پر وہ اثر نہیں چھوڑ سکے جس کے لیے وہ طویل عرصے سے مشہور رہے ہیں۔حال ہی میں ان کے بیٹے جنید خان کی فلم "ایک دن" بھی باکس آفس پر توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ یکم مئی کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں جنید خان کے ساتھ جنوبی ہند کی اداکارہ سائی پلوی مرکزی کردار میں نظر آئی تھیں۔
اگرچہ عامر خان کو دونوں فنکاروں کی اداکاری بے حد پسند آئی، لیکن ناظرین کی جانب سے فلم کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ کمزور باکس آفس کارکردگی کے باعث فلم ریلیز کے چند ہی ہفتوں بعد سینما گھروں سے ہٹا دی گئی۔فلم کی ناکامی نے عامر خان کو گہرا صدمہ پہنچایا۔ انہیں امید تھی کہ ان کے بیٹے کی یہ فلم کامیابی کی نئی راہیں کھولے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران عامر خان نے اپنی کیفیت کے بارے میں کھل کر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ جب میری کوئی فلم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تو میں دو سے تین ماہ تک افسردہ رہتا ہوں۔ میرے لیے ہر فلم ایک بچے کی طرح ہوتی ہے۔عامر خان نے مزید کہا کہ کسی فلم کی ناکامی کے درد کو قبول کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ان کے مطابق:جب کسی فلم کو ناظرین مسترد کر دیتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے۔ اس نقصان کو تسلیم کرنا اور اس پر غم منانا ضروری ہے۔ فلم کا ناکام ہونا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا بچہ کھو دیا ہو۔ ایسے وقت میں انسان کو رو لینا چاہیے اور خود کو وقت دینا چاہیے تاکہ وہ اس تکلیف سے باہر آ سکے۔
عامر خان نے یہ بھی بتایا کہ کئی مرتبہ وہ صرف ٹیزر یا ٹریلر دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کون سی فلم ناظرین کو پسند آئے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں جنید خان کی فلم کی کہانی پر مکمل اعتماد تھا اور انہیں امید تھی کہ ناظرین اسے پسند کریں گے، لیکن باکس آفس پر فلم کو وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔