ملک اصغر ہاشمی
ملک کے لاکھوں غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں میں ایک فکر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ بیٹی پڑھنا چاہتی ہے لیکن گھر کی معاشی حالت اس کا ساتھ نہیں دیتی۔ اسکول کی فیس۔ کتابیں۔ کاپیاں۔ یونیفارم اور دیگر تعلیمی اخراجات کئی بار تعلیم کا راستہ روک دیتے ہیں۔ خاص طور پر اقلیتی برادریوں کے معاشی طور پر کمزور خاندانوں میں یہ مسئلہ اور زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے خاندانوں کی بیٹیوں کے لیے بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ اسکیم کسی سہارے سے کم نہیں ہے۔
یہ اسکالرشپ اسکیم ان ہونہار طالبات کے لیے شروع کی گئی ہے جو تعلیم میں اچھی ہیں لیکن معاشی تنگی ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ ان بیٹیوں کو آگے بڑھانا بھی ہے جو تعلیم کے ذریعے اپنا مستقبل بدلنا چاہتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اسکیم کو پہلے مولانا آزاد نیشنل اسکالرشپ فار میریٹوریس گرلز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی شروعات سال 2003 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کی تھی۔ بعد میں اس کا نام بدل کر بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ رکھ دیا گیا۔ آج یہ اسکیم ملک بھر کی ہزاروں طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
یہ اسکالرشپ خاص طور پر چھ نوٹیفائیڈ اقلیتی برادریوں کی طالبات کے لیے ہے۔ ان میں مسلم۔ عیسائی۔ سکھ۔ بودھ۔ جین اور پارسی برادریاں شامل ہیں۔ اس اسکیم کا فائدہ صرف لڑکیوں کو دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا اور اسکول چھوڑنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت جماعت 9 اور 10 میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو 5000 روپے کی اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ جبکہ جماعت 11 اور 12 کی طالبات کو 6000 روپے کی امدادی رقم دی جاتی ہے۔ یہ رقم براہ راست طالبہ کے بینک کھاتے میں منتقل کی جاتی ہے۔ اسکالرشپ کی رقم کا استعمال اسکول یا کالج کی فیس جمع کرنے۔ نصابی کتابیں خریدنے۔ اسٹیشنری لینے اور ہاسٹل یا رہائش سے متعلق اخراجات کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے کچھ شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ طالبہ کو پچھلی جماعت میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ والدین یا سرپرست کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ آمدنی کا سرٹیفکیٹ متعلقہ مجاز سرکاری اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونا ضروری ہے۔

اس اسکیم کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا شفاف آن لائن طریقہ کار ہے۔ درخواستیں صرف نیشنل اسکالرشپ پورٹل کے ذریعے قبول کی جاتی ہیں۔ طالبات کو آن لائن درخواست دینی ہوتی ہے۔ درخواست کا پورا عمل ڈیجیٹل ہے جس کی وجہ سے ملک کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر طالبات درخواست دے سکتی ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ درخواست دینے کے لیے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی۔ آن لائن فارم بھرنے یا کسی دوسری خدمت کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے باوجود کئی بار فرضی ایجنٹ طالبات اور والدین کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت نے لوگوں کو صرف سرکاری پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کا مشورہ دیا ہے۔
اسکیم میں بینک کھاتے سے متعلق معلومات انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ درخواست کے وقت بینک اکاؤنٹ نمبر۔ آئی ایف ایس سی کوڈ اور بینک شاخ کی معلومات احتیاط کے ساتھ درج کرنی ہوتی ہیں۔ اگر بینک کی تفصیلات غلط پائی جائیں تو اسکالرشپ کی رقم جاری نہیں ہو پاتی۔ اس کے ساتھ بینک اکاؤنٹ کا کے وائی سی مکمل ہونا بھی ضروری ہے۔
ایک اور اہم ضابطہ یہ ہے کہ جس طالبہ کو مرکزی یا ریاستی حکومت کی کسی دوسری اسکالرشپ اسکیم کا فائدہ مل رہا ہو وہ اس اسکیم کے لیے اہل نہیں ہوگی۔ حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ ضرورت مند طالبات تک مدد پہنچانا ہے۔ اسی وجہ سے ایک طالبہ ایک وقت میں صرف ایک مرکزی اسکالرشپ اسکیم کا فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔
اسکالرشپ کے لیے انتخاب مکمل طور پر قابلیت اور آمدنی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ریاست وار اور برادری وار کوٹہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ نظام سال 2011 کی مردم شماری میں درج اقلیتی آبادی کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ریاست یا برادری سے کافی تعداد میں درخواستیں موصول نہیں ہوتیں تو بچ جانے والی اسکالرشپس دیگر ریاستوں کی اہل طالبات کو دی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی اسکیمیں صرف مالی مدد تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کے سماجی اثرات بھی کافی وسیع ہوتے ہیں۔ جب کسی خاندان کی بیٹی اسکالرشپ حاصل کرکے آگے بڑھتی ہے تو اس کا اثر پورے خاندان اور معاشرے پر پڑتا ہے۔ اس سے بچیوں کی تعلیم کو فروغ ملتا ہے اور لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں اقلیتی برادری کی لڑکیوں کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے تئیں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں اسکالرشپ اسکیموں کا اہم کردار رہا ہے۔ بہت سی طالبات ایسی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی مدد سے اپنی تعلیم مکمل کی اور بعد میں استاد۔ ڈاکٹر۔ انجینئر اور انتظامی افسر بنیں۔
بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ اسکیم ان خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ جب بیٹیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں تو صرف ان کا مستقبل نہیں بدلتا بلکہ پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے۔
آج جب ملک خواتین کو بااختیار بنانے اور تعلیم کے حوالے سے نئے اہداف طے کر رہا ہے تو ایسی اسکیمیں مزید اہم ہو جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی معلومات اہل طالبات تک پہنچیں تاکہ کوئی بھی ہونہار بیٹی صرف معاشی تنگی کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔
بیگم حضرت محل اسکالرشپ اسی سوچ کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ اسکیم ان بیٹیوں کو پیغام دیتی ہے کہ بڑے خواب دیکھو۔ محنت کرو اور آگے بڑھو۔ معاشی مشکلات اب تعلیم کی راہ میں دیوار نہیں بنیں گی۔