ڈاکٹر عمیر منظر
ایسوسی ایٹ پروفیسر
شعبہ اردو، مانو لکھنؤ کیمپس
اردو سے سنجیو صراف کی دیوانگی کا نام ریختہ فاؤنڈیشن ہے۔ اسی دیوانگی نے خواب کو حقیقت کی شکل عطا کی۔یہ کہنا کہ اردو کی دنیا اب ریختہ کے بغیر ادھوری تصور کی جائے غلط نہ ہوگا۔داغ نے اپنے ایک مشہور زمانہ شعر میں اردو کے ساتھ جو دھوم کا لفظ استعمال کیا تھا صحیح معنوں میں وہ اب نظر آتی ہے۔کیونکہ انٹرنیٹ کی دنیا پر اردو کے چھانے کا ایک بڑا سبب ریختہ فاؤنڈیشن ہی ہے۔اردو سے متعلق آپ کچھ بھی تلاش کریں گوگل کی پہلی کھڑکی ریختہ کی طرف ہی کھلتی ہے۔ہمارے زمانے میں اردو شاعری کو عوامی سطح پر مزید مقبول، پرقوت اور غیر اردو داں طبقے کو اس طرف مائل کرنے کا بڑا سہرا ریختہ فاؤنڈیشن کو ہی جاتا ہے۔ریختہ کی ویب سائٹ بلبل ہزار داستان کی طرح ہے۔اردو سے متعلق آپ کچھ بھی تلاش کریں وہاں موجود پائیں گے۔کتابوں اور رسالوں کی بات چھوڑیے قدیم اشاعتی اداروں کی بے شمار فہرستیں بھی یہاں اپلوڈ ہیں جو بہت سے اشاعتی اداروں سے متعلق معلومات کا بنیادی ذریعہ بن رہی ہیں۔یہ سب سنجیو صراف کی بے پناہ محنت اور سرمائے کی فراہمی کے سبب ہی ممکن ہوسکا ہے۔
ایک طرف لوگوں نے ریختہ کو کتابیں عطیہ کی ہیں تو دوسری طرف بے شمار کتابیں اور رسالے ایسے بھی ہیں جن کو خریدا گیا ہے۔اردو کے مشہور مورخ حامد حسن قادری کے بیٹے خالد حسن قادری کی کتابوں کا ذاتی ذخیرہ لندن سے منگوایا گیا۔منشی نول کشور پریس کی باقیات کو جب ان کے ورثا نے ریختہ کوہدیہ کیا تو وہاں کی تمام کتابیں لکھنؤ سے ٹرک کے ذریعے نوئیڈا لائی گئیں اور ان کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ان میں بہت سی کتابوں کی از سر نوجلد سازی ہوئی اور زائد نسخوں کو اردواسکالر اور اس زبان سے محبت کرنے والوں کو پیش بھی کی گئیں۔نول کشور پریس کے اس وقت سب سے زیادہ ٹائٹل ریختہ پر ہی موجود ہیں۔ریختہ پر اردو کا ایک بڑا خزانہ ای بک کی شکل میں موجودہے۔
ایک زمانہ تھا کہ تحقیق کرنے والوں کو شہر در شہر جاکر لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی تھی پھر بھی کبھی کبھی مطلوبہ مواد تک رسائی حاصل نہیں ہوتی تھی۔قدیم کتابوں،قلمی نسخوں اور تذکروں کی فوٹی کاپی بعض شرائط کے ساتھ بہ مشکل تمام ہی لائبریری سے فراہم کی جاتی تھیں مگر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے گزشتہ پندرہ برسوں کی لگاتار محنت کے بعد اب تین لاکھ سے زائد کتابیں ای بک کی شکل میں سب کے استفادہ کے لیے ریختہ پر موجود ہیں۔ایک سے ایک قدیم اور نادر کتابیں ریختہ کی ای بک کا حصہ ہیں۔ریختہ کی ای بک کا قصہ بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے۔پروفیسر عبدالرشید صاحب کے منہ سے ایک لفظ نکلا اور سنجیو صراف نے ای بک کی شکل میں کتابوں کا تاج محل تیار کردیا۔
2011 میں ریختہ کا جب کام شروع کیا گیا تو ہمارے سامنے بڑا ہدف شاعری کا انتخاب تھا جسے ریختہ پر اپلوڈ کرنا تھا۔بیشتر کلاسیکی شعرا کا انتخاب اپنے بعض اساتذہ کے مشورہ سے کررہا تھا۔یہ واضح رہے کہ جناب سنجیو صراف خود شاعری کا نہایت بالیدہ ذوق رکھتے ہیں۔ بے شمار اشعار ان کے حافظے کا حصہ ہیں۔ پرانی فلموں کے نغمے بھی وہ لطف لے کر بسااوقات سناتے ہیں۔اشعار وہ بہت ڈوب کر اور ٹھہر کر سناتے ہیں لطف لینا بھی جانتے ہیں اور لفظوں سے کھیلنا بھی۔ان کی یہی شعری دلچسپیاں ریختہ کے وجود کا سبب بنیں ۔ابتدا میں شاعری کا حصہ زیادہ تھااور ابھی کام کی توسیع بھی نہیں ہوئی تھی افراد بھی زیادہ نہیں تھے لیکن کام سے کام نکلتاگیا۔اور وہ خودنئے نئے خواب دیکھتے تھے۔اسی سلسلے میں انھوں نے عبدالرشید صاحب سے کہا کہ اس کے علاوہ ہم اور کیا کرسکتے ہیں تو رشید صاحب نے انھیں قدیم کتابوں کی اسکیننگ کامشورہ دیا۔انھوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی مشین آجائے کہ جس سے اردو کی نایاب اور نادر کتابیں اسکین کر کے ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں تو اس سے نہ صرف وہ کتابیں محفوظ ہو جائیں گی بلکہ ویب سائٹ سے استفادے کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے گا۔
ریختہ کے ابتدائی دنوں میں پروفیسر عبدالرشید پروفیسر شہپر رسول اور پروفیسر احمد محفوظ صاحبان کے ساتھ سنجیو صراف کی ایک دو نشستیں بھی ہوئیں۔ بعدکے دنوں میں پروفیسر عبدالرشید صاحب اور ریختہ کے تعلق کی سرگرمی نے اسے چارچاند لگادیا۔جس میں ان کا یہ مشورہ بہت اہمیت اختیار کرگیا۔شاید ہفتہ دس دن ہی ہوئے ہوں گے کہ مشین آگئی۔ سنجیو صراف صاحب نے اپنی تمام تر متانت اور سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ آپ نے جس مشین کی نشاندہی کی تھی وہ آ چکی ہے۔اتنی تیزی کی امید نہیں تھی مگر جیسے ہی انھوں نے یہ بات کہی ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اورسمجھ نہیں پارہے تھے کہ اس جملے کا کیا جواب دیں۔ ابھی تو شاعری کے حصے پر ہی ہمارا قابونہیں تھا کہ ایک نئی افتاد آن پڑی۔کام کرنے کے جذبے اور شوق نے رہنمائی کی۔کتابوں سے پروفیسر عبدالرشید صاحب کا رشتہ بلکہ یارانہ بہت پرانا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ سے نایاب اور نادر کتابوں کی تلاش میں رہتے رہے۔ان کا ذاتی کتب خانہ بھی بیشتر قدیم اور نایاب کتابوں پر ہی مشتمل ہے۔ دریا گنج میں ہر اتوار کو قدیم اور نادر کتابیں بھی فروخت ہونے کے لیے آتی تھیں (اب نہیں معلوم کیا صورت ہے)وہ اس بازار کے چپے چپے سے وہ واقف تھے۔ ای بک کے لیے مشین آجانے کے بعدہر ہفتے پرانی کتابیں وہاں سے خریدتے۔جو ریختہ پر اپلوڈ کی جاتی تھیں۔انہوں نے بہت سی قدیم اور نایاب کتابوں کو وہیں سے حاصل کیا جو آج ریختہ فاؤنڈیشن کا حصہ ہے۔خان محبوب طرزی اور اس عہد کے بہت سے ناول نگاروں کی کتابیں اسی بازار سے خرید کر ریختہ پر اپلوڈ کی گئیں۔
ریختہ نے اپنے اہداف میں شاعری کے ساتھ ساتھ ای بک کوابتدائی دنوں میں ہی شامل کرلیا تھا اورایک منصوبے اور منظم کوشش کی کا ہی نتیجہ ہے کہ ریختہ کا ای بک والا حصہ بہت مقبول ہے۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر ملک کی مشہور اور ممتاز لائبریریوں کی بہت سی کتابیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔اس کام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے لوگوں کی کوششیں شامل رہی ہیں۔جن میں پروفیسر عبدالرشید صاحب کو اولیت حاصل ہے۔ملک کے ممتاز اہل قلم سے رابطہ،مختلف ذاتی لائبریریوں کا ایک خوب صورت حصہ بھی ریختہ میں شامل ہے جن میں شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر شمیم حنفی کے ذاتی کتب خانوں کی اہم کتابیں بھی شامل ہیں۔انور معظم (600)اور جیلانی بانو(1865) کے ذاتی کتب خانے کا بڑا حصہ بھی ریختہ پر مطالعہ کے لیے موجود ہے۔ریختہ پر اب تو نادر و نایاب کتابوں کا شمار ہی ممکن نہیں رہا۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ منشی نول کشور پریس کے سب سے زیادہ ٹائٹل (تقریباً900)ریختہ پر موجود ہیں۔
راجہ محمود آبادکی لائبریری سے بہت سی کتابوں کو اسکین کرنے کی صورت پیدا کی گئی۔دلی سے پروفیسر عبدالرشید صاحب کی قیادت میں ایک ٹیم(گوروجوشی،اسامہ) لکھنؤ آئی اور پھر یہاں سے ہم لوگ ہر روز صبح محمود آباد کے لیے جاتے اور شام تک واپسی ہوتی تقریباً ایک ہفتہ تک یہ کام جاری رہا۔بہت سی کتابوں کو وہاں سے منتخب کیا گیا۔تقریباً ساڑھے تین سو ٹائٹل اس لائبریری کے ریختہ پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔وہاں کی لائبریری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔اردو سے زیادہ انگریزی کی کتابوں کا ذخیرہ ہے۔
لکھنؤ میں کتابوں کے ایک عاشق اسلم محمود آباد صاحب تھے۔ان کے پاس کتابوں کا بڑا نادر ذخیرہ تھا۔کتابیں خریدنا ان کے شوق کا حصہ تھا۔وہ اپنی کتابوں کی حفاظت بہت توجہ اور اہتمام سے کرتے تھے۔بعض کتابوں کی خریداری کے دلچسپ واقعات بھی سناتے۔اردو کے بہت سے ادیبوں اور قلم کاروں سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔اپنے ذاتی کتب خانے کو ایک چھوٹی سی مملکت تصور کرتے تھے۔پندرہ سولہ ہزار سے زائد کتابیں ان کے ذاتی کتب خانے میں تھیں۔قدیم رسالے،کتابیں اور تصویروں کا البم اس پر مستزاد۔ان سے ملاقات کے لیے ایک دو بار سنجیو صراف نے لکھنؤ کا سفر بھی کیا۔اسلم محمود صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ذاتی کتب خانے کا بڑا حصہ ریختہ نے خریدا۔ان کتابوں کا انتخاب دلی سے پروفیسر عبدالرشید صاحب،کان پور سے ڈاکٹر خان فاروق اور لکھنؤ سے راقم الحروف پر مشتمل ٹیم نے کیا تھا۔724ٹائٹل ان کے ذاتی کتب خانے کا ریختہ پر مطالعہ کے لیے موجود ہے۔

ملک کی دودرجن سے زائد اہم لائبریریوں کا ایک بڑا حصہ ریختہ پر اسکین کرکے اپلوڈ کردیا گیا ہے۔جامعہ ہمدرد کی لائبریری میں مختلف شخصیات کے ذاتی کلکشن موجود ہیں۔ان کا کچھ حصہ ریختہ پر دیکھا جاسکتا ہے۔حیدرآباد میں عبدالصمد صاحب تھے جن کے پاس قدیم رسالوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سنجیوصراف کی کوشش سے یہ ذخیرہ بھی ریختہ کاحصہ بن گیا۔
ریختہ پر اردو رسائل و جرائد کا بڑا حصہ موجود ہے اس میں بہت سے ایسے رسالے ہیں جن کا اردوکے فروغ میں ایک تاریخی کردار رہا ہے اور بہت سے رسالے ایسے بھی ہیں جن کا صرف ذکر سناگیا مگر دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔اس طرح کے سیکڑوں ادبی رسالے ریختہ پر موجود ہیں۔بعض رسالوں کی تو پوری پوری فائل موجود ہے۔اودھ پنچ کا ذکر تو ہوتا ہے مگر اس کے شمارے شاذ ونادر ہی کہیں دیکھنے کو ملیں اب ریختہ کے سبب یہ اردو کے عام حلقے کے حصہ بن چکے ہیں۔اودھ پنچ کے (892)شمارے ریختہ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔اسی طرح رام پور اسٹیٹ گزٹ کے (2829)شمارے یہاں موجود ہیں۔اکمل الاخبار اور شعلہ طور کے کچھ شمارے یہاں دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ماہنامہ معارف (1699)ماہنامہ برہان (1164)،ماہنامہ ساقی دہلی (205)ماہنامہ سہیل گیا(221)شاعر(695)شب خون (343)ماہنامہ شاداب (273)حیدرآباد،فاران کراچی (290)شگوفہ (433)،سب رس حیدر آباد (912)ہماری زبان (1431)کے شمارے دیکھے جاسکتے ہیں۔یہ بس چند اشارے ہیں جن سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ریختہ پر ادب و حکمت کے رسائل کا ایک خزانہ موجود ہے۔ان ذخائر سے فائدہ اٹھانے والے اٹھا رہے ہیں اور علم و تحقیق کی ایک نئی دنیا آباد کررہے ہیں۔اس حوالے سے پروفیسر عبدالرشید کی مرتبہ دو کتابیں توجہ طلب ہیں۔آئینہ حیرت اوردوسری تحریریں نیز باقیات غلام عباس۔سید رفیق حسین کے افسانے جانوروں کی نفسیات سے متعلق ہوتے ہیں۔ان کے افسانو ں کا پہلا مجموعہ آئینہ حیرت کے نام سے 1944میں شائع ہواتھا۔جس میں آٹھ افسانے شامل تھے۔بعدمیں یہی افسانے ”گوری ہو گوری“کے نام سے 1952میں شائع ہوئے۔یہ افسانے 'شیر کیا سوچتا ہوگا 'اور 'بے زبان' کے نام سے بھی کتابی صورت میں شائع ہوئے۔لیکن سب میں آٹھ کہانیاں ہی شامل تھیں۔2023میں عبدالرشید صاحب نے ’آئینہ حیرت اور دوسری تحریریں‘(صفحات464)کے نام سے جب رفیق حسین کے افسانوں کوریختہ کی مدد سے مرتب کیا تو ان کی تعداد 28ہوگئی۔24افسانے رسالہ ساقی (1942-1938)سے ہیں اور چار افسانے نیا دورکراچی(1868)سے لیے گئے ہیں۔عام طورپر سید رفیق حسین کے افسانے تو مل جاتے ہیں مگر ان کی سوانح اور شخصیت کے بارے میں کسی نے نہیں لکھا ہے۔پروفیسر عبدالرشید صاحب نے رسالہ ساقی کی فائلوں سے شخصی اور تعزیتی مضامین بھی فراہم کرلیے اور اس طرح سید رفیق حسین کی زندگی جو ایک معمہ بنی ہوئی تھی اس کی تمام گرہیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔باقیات غلام عباس 672صفحات پر مشتمل ہے۔جس میں ان کی کہانیاں،ڈرامے،ترجمے،مضامین،تبصرے اور انٹرویو کے علاوہ ایک ضمیمہ بھی شامل ہے۔عام طور پریہی خیال کیاجارہا تھا کہ غلام عباس کی بیشتر تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ان میں سے بیشترتحریروں کی دستیابی ریختہ کی ای کتاب کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکی۔
لکھنو کے ایک بہت مشہور ناول نگار خان محبوب طرزی تھے انہوں نے کئی سو ناول لکھے۔"لکھنو کا مقبول ناول نگار: خان محبوب طرزی" کے نام سے جب میں نے کتاب مرتب کی تو اس کے مواد کا ایک بڑا حصہ ریختہ کے توسط سے ہی مجھے حاصل ہوا۔
ریختہ پر خان محبوب طرزی کے 100سے زیادہ ناول پڑھے جا سکتے ہیں۔
آج انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو کتابوں اور شاعری کی جو بھی سرگرمی ہے اس میں نمایاں کردار ریختہ کا ہے۔اور یہ سرگرمی اسی سے عبارت ہے۔اس پر بجا طورپر اردو دنیا فخر کرسکتی ہے۔