محفوظ عالم ۔ پٹنہ
برصغیر کی خانقاہیں صدیوں تک روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز رہی ہیں۔ انہوں نے انسان دوستی، خدمت خلق، اخوت اور برداشت کا وہ پیغام عام کیا جس نے معاشرے کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے حالات میں خانقاہیں اپنی روحانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم، ہنر، قیادت سازی اور قومی ترقی کے میدان میں بھی زیادہ فعال کردار ادا کررہی ہیں ۔
آج مسلم معاشرے کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، روزگار، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی اور قومی اداروں میں مؤثر نمائندگی سرفہرست ہیں۔ ایسے میں خانقاہیں اگر صرف روحانی اصلاح تک اپنی خدمات محدود رکھیں تو وہ اپنی تاریخی ذمہ داری کا صرف ایک حصہ ادا کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہ نئی نسل کو جدید تعلیم، سائنسی سوچ، تحقیق، قائدانہ صلاحیت اور قومی ذمہ داری کے احساس سے بھی آراستہ کریں۔
اس سلسلے میں بہار کی خانقاہ رحمانی مونگیر ایک قابل ذکر مثال کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کو فروغ دینے، باصلاحیت مگر معاشی طور پر کمزور طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچانے اور انہیں قومی دھارے میں باوقار مقام دلانے کی منظم کوشش کی گئی ہے۔ رحمانی 30 جیسے منصوبوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر صحیح رہنمائی، معیاری کوچنگ اور مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو پسماندہ طبقے کے نوجوان بھی آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، میڈیکل، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی اور دیگر اعلیٰ شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔آج مونگیر سے پٹنہ تک خانقاہ رحمانی کی یہ تحریک جاری ہے

ایک خواب کی تعبیر: مولانا محمد علی مونگیری
خانقاہ رحمانی کی بنیاد سنہ 1901 میں برصغیر کے ممتاز عالم دین، مصلح، مفکر اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے بانی حضرت مولانا محمد علی مونگیری نے رکھی۔ انہوں نے مونگیر کو اپنی اصلاحی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور عوام کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے ایک ایسی تحریک کی بنیاد ڈالی جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
مولانا محمد علی مونگیری اپنے دور کے ان بصیرت افروز علماء میں شمار ہوتے تھے جو امت کی اصلاح کو محض وعظ و نصیحت تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے تعلیم، کردار سازی اور فکری بیداری سے جوڑتے تھے۔ وہ فرقہ وارانہ مناظروں، غیر ضروری اختلافات اور مسلکی کشمکش کے مخالف تھے اور مسلمانوں میں اتحاد، اعتدال اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیتے تھے۔
انہوں نے بہت پہلے یہ محسوس کر لیا تھا کہ دینی علوم کے ساتھ جدید علوم سے واقفیت بھی ملت کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی لیے ایسے دور میں جب انگریزی تعلیم کے بارے میں شدید ذہنی مزاحمت پائی جاتی تھی، انہوں نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حمایت کی اور مسلمانوں کو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ یہی وسیع النظر فکر بعد میں خانقاہ رحمانی کی تعلیمی اور اصلاحی روایت کی بنیاد بنی۔
سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی مولانا منت اللہ رحمانی سے ملاقات
مولانا منت اللہ رحمانی کا دور عروج
حضرت مولانا محمد علی مونگیری کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں بنے۔ ان کی قیادت میں خانقاہ نے علمی، تعلیمی، دینی اور سماجی میدانوں میں غیر معمولی ترقی کی، اسی لیے ان کا دور خانقاہ رحمانی کی تاریخ کا سنہری باب تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے جامعہ رحمانی کو ایک منظم تعلیمی ادارے کی شکل دی۔ مستقل درجات قائم کیے، نصاب اور نظام تدریس کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا اور ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دیا جہاں دینی علوم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ ان کی سرپرستی میں جامعہ رحمانی ملک کے ممتاز دینی مراکز میں شمار ہونے لگا۔
اصلاح معاشرہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ انہوں نے مونگیر اور نواحی علاقوں میں دینی شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ بالخصوص ماہ رمضان میں نماز تراویح کے لیے جامعہ رحمانی کے حفاظ مختلف مساجد میں بھیجے جاتے تھے، جس سے نہ صرف قرآن کریم کی تلاوت کی روایت کو فروغ ملا بلکہ پورے خطے میں دینی بیداری اور روحانی وابستگی بھی مضبوط ہوئی۔
سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام
مولانا محمد ولی رحمانی اور جدید خدمات
سنہ 1991 میں حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد حضرت مولانا محمد ولی رحمانی سجادہ نشیں بنے۔ انہوں نے اپنے والد کے علمی اور اصلاحی مشن کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی وسعت عطا کی۔ان کی قیادت میں تعلیم، سماجی خدمت، فلاح عامہ اور فکری بیداری کے میدانوں میں متعدد اہم منصوبے شروع کیے گئے جن کے اثرات ملک کے مختلف حصوں تک پہنچے۔مولانا محمد ولی رحمانی کا یقین تھا کہ ایک طالب علم کی کامیابی صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی شخصیت ہمہ جہت، باکردار اور معاشرے کے لیے مفید ہونی چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت جامعہ رحمانی میں خوش خطی، مطالعہ، قائدانہ صلاحیت، تقریری و تحریری مہارت اور عصری حالات سے آگاہی کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا۔
موجودہ قیادت اور تعلیمی وژن
سنہ 2021 میں ممتاز دینی رہنما، مفکر اور خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مسند سجادگی پر فائز ہوئے۔ 12 مئی 1975 کو پیدا ہونے والے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے ابتدائی دینی اور عصری تعلیم اپنے علمی و روحانی خانوادے کے بزرگوں کی سرپرستی میں حاصل کی، جہاں انہیں علمی بصیرت، دینی فکر اور قیادت کی روایات ورثے میں ملیں۔
سجادہ نشینی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے خانقاہ کی علمی، تعلیمی اور فکری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان کے نزدیک ایمان کے تحفظ کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت معیاری تعلیم کا فروغ ہے۔ وہ مختلف مواقع پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم ہی وہ بنیادی قوت ہے جو افراد اور قوموں کو ترقی، خود اعتمادی اور باوقار مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی وژن کے تحت نئی نسل میں تعلیمی بیداری، فکری استحکام اور کردار سازی کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ سنہ 2003 میں ہندوستان کے سابق صدر اور ممتاز سائنس داں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے خانقاہ رحمانی، مونگیر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خانقاہ کے روحانی ماحول، تعلیمی سرگرمیوں اور سماجی خدمات کا جائزہ لیا اور ان کوششوں کو سراہا۔

ادارہ رحمانی کے اہم شعبے
رحمانی مشن
تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے باصلاحیت نوجوانوں کی رہنمائی، اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور قوم کی تعلیمی ترقی کے لیے کام کرنا۔
رحمانی فاؤنڈیشن
رفاہی، سماجی، تعلیمی اور عوامی خدمت کے مختلف منصوبوں کے ذریعے ضرورت مند طبقات کی امداد اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ادارہ۔
رحمانی اسکول آف ایکسیلینس
جدید اور معیاری تعلیم کے ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما پر توجہ دینے والا تعلیمی ادارہ۔
خانقاہ رحمانی
سال 1901 میں قائم روحانی و اصلاحی مرکز جہاں تزکیۂ نفس، اخلاقی تربیت، اسلامی تعلیمات کی اشاعت، بیعت و اصلاح اور انسانیت کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے۔
جامعہ رحمانی
دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق، فقہ، حدیث، تفسیر اور عربی زبان کی تدریس کے لیے معروف دینی درسگاہ، جہاں علماء اور دینی قائدین کی تربیت کی جاتی ہے۔
سیکڑوں طلبا کرتے ہیں تیاری
سوپر تھرٹی کے طریقہ پر بنا رحمانی 30 میں آج سیکڑوں طلبا تیاری کر رہے ہیں۔ رحمانی 30 میں جہاں آئی آئی ٹی کی تیاری کرائی جاتی ہے وہیں این آئی ٹی، سی اے اور دوسرے بڑے کورسیز کی طلبا تیاری کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں یہاں سے کامیاب ہوتے ہیں۔ رحمانی 30 پٹنہ سمیت حیدر آباد، بنگلور، مہا راشٹر اور اورنگ آباد میں چل رہا ہے۔ رحمانی 30 کو اب مولانا محمد ولی رحمانی کے صاحب زادہ فہد رحمانی دیکھتے ہیں۔ فہد رحمانی اس ادارہ کے سی او ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماج میں ہم لیڈر شپ پیدا کر رہے ہیں اور آئندہ اس کام میں مزید تیزی لانے کا منصوبہ ہے۔ فہد رحمانی کے مطابق مستقبل میں ہم ملک کے تمام صوبوں میں رحمانی 30 قائم کرنا چاہتیں ہیں۔ اس سلسلہ میں کام بھی ہو رہا ہے اور ادارہ کی کامیابی کے سبب یہ خواہش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ طلبا کی مدد کر سکیں اور اس سمت میں ہر ممکن کام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سماج میں لیڈر شپ پیدا کرنا اس ادارہ کا مقصد
اس تعلیمی نظام کے نگراں فہد رحمانی کہتے ہیں کہ ملک میں آئی آئی ٹی کا قریب ایک لاکھ سیٹ ہے جس پر حکومت کا کافی پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اس ایک لاکھ سیٹوں پر مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو ہزار ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ 15 ہزار سے زیادہ طلبا کیوں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ادارہ ایسا ہے جہاں سے دنیا کو لیڈر شپ مل رہا ہے۔ گوگل، مائیکرو سافٹ اور دوسری بڑی کمپنیوں کے سی او وہاں سے پیدا ہو رہے ہیں ایسے میں مسلم طلبا کو اس سسٹم سے جوڑنا ہمارا مقصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان اور شکر ہے کہ رحمانی 30 کا رزلٹ کافی اچھا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کے مستقبل قریب میں مزید طلبا کی ایک بڑی تعداد کو ہم اس مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔