ڈاکٹر اعجاز علی

Story by  محفوظ عالم | Posted by  [email protected] | Date 27-07-2025
 غریبوں کے مسیحا اور پسماندہ مسلمانوں کی آواز- ڈاکٹر اعجاز علی
غریبوں کے مسیحا اور پسماندہ مسلمانوں کی آواز- ڈاکٹر اعجاز علی

 



محفوظ عالم : پٹنہ 

اس دنیا میں جتنی بھی چیزیں لوگ استعمال کرتے ہیں اسے بنانے والا کوئی نہ کوئی ہے۔ انسان غور کرے تو روز مرہ کی زندگی میں استعمال کی جانے والی چیزوں کو کوئی نہ کوئی بنایا ہے ایسے میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی ایسا مثبت کام کرے جو سماج کو اور دنیا کے لئے نفع بخش ہو۔ کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم لوگوں سے محبت کرے اور غریبوں کی مدد کرے۔

یہ کہنا ہے پٹنہ کے مشہور ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر ایم اعجاز علی کا۔ ڈاکٹر ایم اعجاز علی پارلیامنٹ کے ممبر رہ چکیں ہیں اور قریب تین دہائیوں سے مظلوموں کو انصاف دلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کئی سو گاؤں کا دورہ کر چکیں اعجاز علی کا ماننا ہے کہ سماج میں جب تک مساوات نہیں آئے گا اور غریبوں کو حق حاصل نہیں ہوگا سماج کی ترقی بے معنی ہے۔

دس روپیہ فیس پر کرتے ہیں علاج

عام لوگ ڈاکٹر اعجاز علی کو غریبوں کے مسیحا کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ 1958 میں پیدا ہوئے ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی تعلیم ایک یتیم خانہ میں شروع ہوئی تھی۔ بعد میں انہوں نے اسکول میں داخلہ لیا۔ گھر کی مالی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔ پڑھنے لکھنے میں کافی اچھے تھے۔ کافی محنت کیا اور لگاتار اسکول میں اول مقام حاصل کرتے رہے اور پھر پٹنہ میڈیکل کالج میں ان کا داخلہ ہوا اور ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے انہوں نے اپنے کیریر کی شروعات کی۔ عام طور پر لوگ ڈاکٹر بننے کے بعد اپنی مالی حالات کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں کوششیں شروع کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اعجاز علی جب ڈاکٹر بنے اور خود کا کلنک شروع کیا تو فیس اتنا کم رکھا کہ کوئی بھی شخص بلا جھجک ان سے علاج کرا سکے۔ شروعات میں دو اور تین روپیہ فیس تھا بعد میں 10 روپیہ فیس ہو گیا۔ چار دہائی بعد بھی ڈاکٹر اعجاز علی کا فیس محض دس روپیہ ہے اور دس روپیہ فیس پر وہ علاج کرتے ہیں۔

غریبوں کی مدد کو بنایا اپنا مقصد

ڈاکٹر اعجاز علی نے اپنے کیریر کی شروعات میں ہی یہ من بنا لیا تھا کہ وہ غریبوں کی مدد کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہار کے گاؤں کا دورہ کرنا شروع کیا۔ اس وقت احساس ہوا کہ مسلمانوں میں جو کمزور ذاتیاں ہیں ان کی تعلیمی، سماجی اور اقتصادی حالت بیحد ناگفتبہ ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر اعجاز علی نے ان کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں مختلف تحریکیں چلائی۔ پٹنہ سے لیکر دہلی اور کولکتہ سے لیکر لکھنؤ تک دلت مسلمانوں کو آئین کی دفع 341 میں شامل کرنے کی مانگ کو لیکر تحریک چلاتے رہے۔ آج بھی ان کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

دلت مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد

ڈاکٹر ایم اعجاز علی کا کہنا ہے دلت مسلمانوں کو جب تک شیڈول کاسٹ کا درجہ نہیں دیا جائے گا ان کی حالت نہیں بدلے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے کمزور طبقات کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اگر انہیں آئین کی دفع 341 کی سہولت دستیاب ہو جائے تو اس سماج کا بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر ایم اعجاز علی اپنا پریکٹس بھی کرتے ہیں اور دس روپیہ پر مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ سیکڑوں مریض سے وہ ہر وقت گھیرے رہتے ہیں اور دوسری جانب پسماندہ اور دلت مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کی کوششیں بھی لگاتار کرتے رہے ہیں۔ اعجاز علی کی اس تحریک کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی پسماندہ اور دلت طبقہ میں بیداری آئی ہے اور وہ بھی اپنا حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے سلسلے میں پسماندہ سماج کو بیدار کیا تو سیاسی طور پر بھی آگے بڑھانے کی کوششیں کی ہے۔ حال کے دنوں میں ڈاکٹر اعجاز علی نے مظالم کی روک تھام ایکٹ میں بھی پسماندہ مسلمانوں کو شامل کرانے کی مانگ کو لیکر پٹنہ میں ایک بڑا پروگرام کیا تھا۔ اس تعلق سے ان کا کہنا ہے کہ مظالم کی روک تھام ایکٹ میں دلت اور پسماندہ مسلمانوں کو شامل کر لیا جائے تو فساد اور جھگڑا سماج سے ختم ہو سکتا ہے۔

مثبت فکر سے بدلے گا سماج

ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا ہے کہ سماج میں کچھ اچھا کرنے کے لئے بڑی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے خاص ہے مثبت فکر کے ساتھ مسلسل جدوجہد کرنا۔ وہ موجودہ حکومت سے بھی اپیل کرتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کی کمزور ذاتیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ان کے مطالبات پر غور کیا جائے اور اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں کبھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا میں اپنے خاندان کا پہلا ڈاکٹر بنا اپنی محنت کے بدولت۔ اب اپنی زندگی کو میں نے سماج کے لیے وقف کر دیا ہے اور لگاتار میں دیہی علاقوں کا دورہ کرتا ہوں اس وقت لوگوں کی اور خاص طور سے پسماندہ مسلمانوں کی حالت دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے اس لیے سماج کے اس حصہ پر کام کرنا اور ان کی تعلیمی، سماجی اور مالی حالت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسئلہ کو حل کرانے کی فکر کرتا ہوں۔

ڈاکٹر اعجاز علی کی لگاتار کوششوں کے سبب دلت مسلمانوں میں خود اعتمادی کا جزبہ پروان چھڑا ہے اب پسماندہ و دلت سماج نہ صرف یہ کہ خود کچھ کرنا چاہتا ہے بلکہ کسی سیاسی بہکاوے میں آئے بغیر یہ اعلان کرتا ہے کہ جو کئی بھی ان کے مسئلہ کو حل کرے گا وہ ان کا ساتھ دیں گے۔ ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا ہے کہ سیکولرزم اور فرقہ واریت کی سیاست ملک کو نقصان پہنچاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے بنیادی مسئلہ حل کیے جائیں۔ ان کی روزی روٹی، مکان اور دوسری سہولتیں مہیا کرانے کی بات ہو۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہونے لگے تو ملک کی ترقی کی رفتار نہ صرف بڑھے گی بلکہ ہر طرف امن و سکون کا ماحول بھی قائم ہوگا۔