نئی دہلی
جمعرات (12 مارچ 2026) کو ہندوستانی حصص بازار میں توقع کے مطابق بڑی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کا آغاز ہوا۔ دونوں بڑے اشاریے بی ایس ای سینسیکس اور این ایس ای نفٹی 50 ابتدائی کاروبار میں تیزی سے نیچے گر گئے۔ سینسیکس آج صبح 900 سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا جبکہ نفٹی 300 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ کاروبار کرتا دکھائی دیا۔
مقامی حصص بازاروں نے آج نچلی سطح پر کاروبار شروع کیا۔ یہ مسلسل دوسرے دن کی گراوٹ ہے۔ اہم اشاریے تقریباً ایک فیصد کمی کے ساتھ کھلے کیونکہ خام تیل کی قیمتیں دوبارہ فی بیرل 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ عالمی بازاروں کے کمزور رجحانات اور غیر ملکی سرمائے کے مسلسل انخلا نے بھی سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا ہے۔ ابتدائی کاروبار میں سینسیکس 992.53 پوائنٹس گر کر 75,871.18 پوائنٹس پر آ گیا، جبکہ نفٹی 310.55 پوائنٹس پھسل کر 23,556.30 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
بازار کھلنے سے پہلے خام تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر سب سے بڑی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کے آس پاس نئے حملوں اور رسد میں رکاوٹ کی خبروں کے بعد قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے عالمی بازاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
اسی دوران گفٹ نفٹی ابتدائی کاروبار میں گراوٹ کا اشارہ دے رہا ہے جبکہ ڈاؤ فیوچرز تقریباً 400 پوائنٹس نیچے آ گیا۔ دوسری جانب ایشیائی بازار بھی منفی رجحان کے ساتھ کھلے ہیں۔
بدھ کے روز اس سے پہلے نفٹی 395 پوائنٹس یعنی 1.63 فیصد کی کمی کے ساتھ 23,867 پر بند ہوا تھا، جبکہ سینسیکس 1,342 پوائنٹس یعنی 1.72 فیصد گر کر 76,864 پر بند ہوا تھا۔
امریکی بازار بھی بدھ کے روز گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ بین الاقوامی معیار کے برینٹ كرویڈ کی قیمت 8.98 فیصد بڑھ کر فی بیرل 100.24 ڈالر تک پہنچ گئی۔ حصص بازار کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار بدھ کے روز فروخت کار رہے اور انہوں نے 6,267.31 کروڑ روپے کے حصص فروخت کیے۔ دوسری جانب مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے 4,965.53 کروڑ روپے کے حصص خریدے۔
ایشیائی بازاروں کی صورتحال
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث جمعرات کی صبح ایشیائی بازار گراوٹ کے ساتھ کھلے۔