صحافت اور بچوں کی کہانیوں میں ڈھلی ہوئی شخصیت:شاہ تاج خاں

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 06-05-2026
صحافت اور بچوں کی کہانیوں میں ڈھلی ہوئی شخصیت:شاہ تاج خاں
صحافت اور بچوں کی کہانیوں میں ڈھلی ہوئی شخصیت:شاہ تاج خاں

 



ڈاکٹر عمیر منظر

شعبہ اردو ،مانو۔لکھنؤ کیمپس

 صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا سب سے کارگر طریقہ محنت اور کوشش ہے،جس نے یہ گُر سیکھ لیا اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔محنت ہی شخصیت کومرجع خلائق بناتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک دنیا اس کی گرویدہ ہوجاتی ہے۔محترمہ شاہ تاج خاں (پ 1969) نے حرکت و عمل کا فلسفہ شاید اقبال سے سیکھا ہے۔کیونکہ جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو بقول اقبال یہی اندازہ ہوتا ہے کہ

ہر لحظہ نیا طورنئی برق تجلی 

انھوں نے اپنی عملی زندگی کی آغاز اگرچہ ایک صحافی کے طورپرکیا مگر آگے چل کر انھو ں نے بچوں کے لیے سائنسی افسانے بھی لکھے۔ان کے یہ افسانے صرف اردو کے رسالوں میں ہی شائع نہیں ہوتے بلکہ سائنس کی دنیا میں بھی بچوں کی رہ نمائی والی ان تحریروں کو نہایت اہتمام سے شائع کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب وہ دونوں حوالوں سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انھوں نے اپنی تحریروں سے بچوں کو ایک مثبت اور تعمیری رخ دیا ہے۔ نئی صدی کے بچوں کو ان کی دنیا سے واقف کرایا ہے اور ان کے بنیادی سوالوں کو باتو ں باتوں میں جواب بنا کر پیش کردیا ہے۔

پرانی دلی سے

 شاہ تاج خاں دلی والی ہیں۔گلی گڑھیاان کی جائے پیدائش ہے۔وہاں سے ان کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔دلی کی زندگی کا اپنا الگ ہی رنگ روپ ہے۔اردو،شاعری اور تہذیب تو اس شہر کی پہچان ہے۔اسی شہر کی مٹی سے انھوں نے زبان و تہذیب کا علم حاصل کیا۔ان کی شخصیت کو سنوارنے اور سجانے میں اس شہر میں کا نمایاں کردار ہے۔ابتدائی تعلیم یہیں کے گلی کوچوں اور اسکولوں سے حاصل کی۔اعلی تعلیم کے لیے دلی یونی ورسٹی کا انتخاب کیا۔قومی اہلیتی ٹسٹ (UGC NET)کوالیفائی کیا۔یہیں سے انھوں نے 1998میں اردو صحافت میں ایم فل کیا۔ان دنوں وہ پونے (مہاراشٹر)میں اقامت پذیر ہیں۔اور وہیں سے اپنی مختلف ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہیں۔

صحافت سے عشق

شاہ تاج بنیادی طور ایک صحافی ہیں۔بلکہ ان کا پہلا عشق صحافت ہی ہے۔دلی یونی ورسٹی سے کورس کی تکمیل کے بعد انھوں نے نئی دنیا کو جوائن کیا۔اس طورپر یہ کہا جاسکتاہے کہ نئی دنیا ان کی پہلی صحافتی تجربہ گاہ ہے۔وہ زمانہ پرنٹ میڈیا کے شباب کا تھا۔الیکٹرانک میڈیا کی وہ دھوم ابھی نہیں تھی لیکن اندازہ ہورہاتھا کہ رفتہ رفتہ صحافت کی یہ دنیا ایک بڑے انقلاب سے گذرے گی اور وہی ہوا بھی۔شاید اس کا اندازہ شاہ تاج صاحبہ کو بھی تھا۔

نئی دنیا اور نئی زمین میں کچھ عرصہ تک شعبہ ادارات سے وابستہ رہیں۔مختلف سماجی اور معلوماتی موضوعات پر کالم لکھتی رہیں۔فیلڈ ورک کے توسط سے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کرنا اور مختلف موضوعات پر ان کے ماہرین سے معلومات جمع کرنا اخبار قارئین تک پہنچانا ایک ذمہ داری سے بھرا ہوا کام تھا جسے انھوں نے انجام دیا اور اس طورپر انھوں نے محنت اور سچی لگن سے صحافتی دنیا میں اپنی پہچان کو مستحکم کیا۔یہ بتانا ضروری ہے کہ 1998تا 2001کا یہ وہ ز مانہ ہے جب ہندستان کے ملک گیر اخباروں میں ہفت روزہ نئی دنیا کو بہت توجہ اور سنجیدگی سے پڑھا جاتا تھا۔اس کے قارئین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔اخبار پڑھنے کے بعد ان کی رائیں اور مشورے بھی خط کی صورت میں برابر آتے تھے۔اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شاہ تاج نے صحافت کی دنیا میں پہلا قدم ہی بہت بلندی پر رکھا تھا۔اس حوالے انھوں نے اپنی بعض تحریروں میں اس دور کے تجربے کو بہت خوش گوار قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا کہ محنت اور کام کی سنجیدگی کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا ۔

الیکٹرونک میڈیا کا رخ

یہی وجہ ہے اردو صحافت نے جب الیکٹرانک میڈیا کی طرف رخ کیا تو ای ٹی وی اردو کی شکل میں اردو والوں کے عزائم کے تکمیل کی صورت نکلی۔شاہ تاج اس ادارے کے اولین وابستگان میں تھیں۔شعبہ ادارات سے وابستہ ہوئیں اور اپنی صلاحیتوں سے ای ٹی وی اردو کو بلندیوں پر پہنچایا۔صحافت کی دنیا میں ہر شخص کی پہچان ہوجائے یہ ممکن نہیں کیونکہ اس طرح کے اداروں میں بہت سے کام اجتماعی طورپر انجام دیے جاتے ہیں۔یہ پتا ہی نہیں چلتاکہ اس خبر یا اسٹوری کی تکمیل میں کون کون لوگ شامل ہیں۔آج تو پھر بھی کیمرہ مین کے ساتھ جولوگ ہوتے ہیں ان کا نام آجاتا ہے مگر  ڈیسک پر کام کرنے کی مجبوریاں دوسری طرح کی ہوتی ہیں۔یہاں ایڈٹ ورک زیادہ ہوتا ہے اور ہوم میڈ اسٹوریاں پر کس کا نام جائے یہ بتانا مشکل ہے۔ایسی صورت میں ایک صحافت کی سرگرمیاں تو جاری رہتی ہیں مگر ان میں کسی کا نام نہیں ہوتا البتہ کسی ادارے سے وابستگی ہی کافی رہتی ہے اور یہی نام ہوتا ہے۔

اسی طور پر شاہ تاج خاں کی صحافتی خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کی سرگرمیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔جولوگ بھی ان کی پروفائل دیکھیں گے ان کو انداز ہ ہوگا کہ۔  صحافت اسٹری پلاننگ،اسکرپٹنگ ایڈیٹنگ اور ٹی وی و پرنٹ کے لیے نیوز پیکیجنگ، میڈیا پروڈکشن،تخلیقی ہدایت کاری، لائیو پینل مباحثے اور بلیٹن فارمیٹنگ جیسے کام انھوں نے انجام دیے۔اس کے علاوہ ای ٹی وی کے خصوصی بلیٹن ”خاص بات“ کے پروڈیوسر اور بطورمرکزی منصوبہ ساز کوارڈی نیٹر اور فارمیٹ تخلیق کارکے بھی خدمات انجام دیں۔اس سے ان کی صحافتی سرگرمیوں کے دائرہ کو بھی سمجھا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ زبان کی بنیادی مہارت کی وجہ سے ہدایت کاری اورالیکٹرانک میڈیا کے دیگر فارمیٹ میں ان کی صلاحیت کس قدر اہمیت کی حامل رہی ہوگی۔

ان دنوں صحافت کے ہر میڈیم میں بہت آسانی ہے۔گوگل اورانٹر نیٹ کی دیگر سہولتوں نے دماغ سے زیادہ سافٹ ویئر کی جان کاری کو صلاحیت کا معیار سمجھ لیاہے۔مگر اس صدی کے شروع میں یہ سب کچھ نہیں تھا۔بلکہ محنت،کوشش اور مطالعہ صحافت کی بنیادی شرط تھی جس کو شاہ تاج نے کبھی نظر انداز نہیں کیا شاید اسی وجہ سے سائنس کی غیر معمولی ترقیوں سے انھوں نے فائدہ اٹھا کر اپنی صلاحیتوں کو مزید فروغ دیا۔ان تمام سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک کالم نگار کے طورپر بھی انھوں نے راشٹریہ سہارا اردومیں ”تارے زمین پر“، بختار ویکلی نائٹرو کی باتیں، گھومتا آئینہ کرناٹک ہفتہ وار سائنسی مختصر کہانیوں کی شریک مصنفہ کے طور پر اپنی پہچان قائم کی۔

تحریوں کی اہمیت

شاہ تاج کی تحریروں کی اہمیت کا اندازہ ا سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ستمبر 2024میں قومی تعلیمی پالیسی 2020کے تناظر میں ادب اطفال کی تخلیق کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے نئے اشاعتی مشن کا ڈول ڈالا۔جس کے لیے متعدد تخلیق کاروں سے بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بچوں کے لیے کتابیں تیار کرنے کے لیے ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع سے شاہ تاج خاں کی بھی ایک کتاب ”پالکی“کے نام سے شائع کی گئی۔بچوں سے متعلق قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی متعدد ورکشاپ میں وہ شریک ہوتی رہی ہیں اور ادب اطفال کو ایک خاص نہج سے فروغ دینے میں اپنا حصہ ادا کرتی رہی ہیں۔ 

کہانیاں بھی انعام یافتہ بنیں

شاہ تاج خاں کی کہانیوں کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ان میں پالکی(قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان 2022)،س سے سائنس (2021ممبئی)اورپنکی(2020قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے)شامل ہیں۔گذشتہ ایک دہائی کا عرصہ صحافت کے ساتھ ساتھ ان کی فکشن نگاری کا بھی ہے۔فکشن کے لیے انھوں نے اپنے لیے دودائرے بنارکھے ہیں۔اولاً جو کچھ لکھا جائے وہ بچوں کے لیے اور دوسرے یہ کہ اس میں قصے کہانیوں کے بجائے ٹھوس حقائق کو جگہ دی جائے۔اسلوب اور طرز تو وہی رکھا لیکن اس میں بنیادی اہمیت تعلیم کو دی۔ان کا ہر افسانہ بچو ں کو کو ئی نہ کوئی معلومات فراہم کرتا ہے۔

دراصل ان کی کہانیاں سائنسی شعور کی غماز ہوتی ہیں۔بچوں سے متعلق شائع ہونے والے بیشتر اردو رسالے میں ان کی کہانیاں شائع ہوتی ہیں اور پسند کی جاتی ہیں۔ان کو اس لحاظ سے بھی فوقیت حاصل ہے کہ ان کی بہت سی کہانیاں اردو کے سائنسی رسالوں میں شائع ہوتی ہیں۔اردو میں سائنس فکشن کی روایت کوئی نئی نہیں ہے۔ کم و بیش پون صدی سے اس کی روایت چلی آرہی ہے۔لکھنؤ کے مشہور فکشن نگار خان محبوب طرزی نے متعدد سائنسی ناول لکھے۔ان کے ناول برق پاش اور سفر زہرہ کو بڑی مقبولیت اور شہرت ملی۔آج کے سائنسی دور میں بچوں کے لیے سائنسی انداز کی کہانیاں تواتر کے ساتھ شاہ تاج لکھ رہی ہیں اور اب یہی ان کی پہچان بھی ہے۔

کہانیاں معلومات کا خزانہ

اردو ماہنامہ سائنس کے حالیہ شمارے میں ان کی ایک تحریر گولڈن بلڈ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔گولڈن بلڈ کو بتانے سے پہلے سردی کے موسم میں کس طرح شہروں کے اندر فلیٹ میں دھوپ آتی ہے۔سردیوں میں دھوپ کس قدر ضروری ہے اب یہ سب پر واضح ہے اور دھوپ سے ہی وٹامن ڈی حاصل ہوتی ہے۔یہی وٹامن حاصل کرتے ہوئے اخبار پر نظر پڑتی ہے جہاں ایک خبر کی سرخی تھی ”دنیاکا نایاب ترین بلڈ گروپ۔گولڈن بلڈ“ہے۔آگے انھوں نے میڈیکل کی اصطلاح میں اسے RH Nullکہتے ہیں اور اس بلڈ گروپ کے لوگ دنیا میں پچاس افراد سے بھی کم ہیں۔ایک اہم بات انھوں نے یہ بتائی کہ ”سائنس ہمیشہ نئے شوائد کی بنیاد پر اپنے اندر تبدیلی کی گنجائش رکھتی ہے“۔

اس طرح کی بہت سی اہم باتیں ان کی تحریروں کی زینت بنتی ہیں۔ان کی ایک کہانی ”یہ ورید ہے یا شریان“۔ورید اور شریان دونوں ہی جسم میں خون کے گردش کے نظام کو سنبھالتے ہیں۔کام جب ایک ہے تو اس کے دونام کیوں۔ماں بیٹے کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی یہ کہانی بھی خوب ہے۔تعلیم کے تئیں اسے ایک سماجی بیداری کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ماں جب ورید اور شریان کو نہیں سمجھ سکی اور بیٹے نے انھیں سمجھایا کہ ہاتھوں پر جو ابھری ابھری نیلی لکیریں ہیں یہ ورید(Veins)ہیں۔اورشریانیں عام طورپر گہرائی میں ہوتی ہیں۔جب ڈاکٹر ہماری نبض چیک کرتے ہیں تو وہ ہماری شریانوں کی دھک دھک سنتے ہیں۔اس طرح کی نہ جانے کتنی باتیں ان کے افسانوں میں پائی جاتی ہیں۔

ان کی ایک کہانی کا عنوان ہے ”کالاسونا“عنوان حیرت میں ڈال دے گا۔دراصل اس کہانی میں خام تیل یا کروڈ آئل کے بارے میں بتایا گیاہے۔کہانی شروع ہوتے ہی چھٹی کے بعد بیٹے کو اسکول سے لانے کی۔گاڑیوں کی بھیڑاور ہارن بجاتے ہوئے لوگوں سے بچہ نہ صرف اکتا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ سرکار کو ڈیزل اور پٹرول استعمال کرنے کی ایک مقدار مقرر کردینی چاہیے ورنہ آنے والی نسلوں کے لیے تیل بچے گا ہی نہیں۔کہانی کی یہ ابتدا ہے اور پھر گفتگو کروڈ آئل،ماہر ارضیات،ریفائنری اور بیرل وغیرہ کی اصطلاحات تک پہنچ جاتی ہے۔ایک چھوٹی سی کہانی میں بچو ں کے لیے معلومات کے کیا کیا خزانے پوشیدہ ہیں۔

ایک کہانی عبادت کے عنوان سے ہے۔کلاس میں ہر جمعہ کو کوئی نہ کوئی سوال پوچھا جاتا تھا۔حمیرا نے ہاشم سے پوچھا تھا کہ عبادت کیا ہے۔وہ آج جب گھر سے آیا تو اپنے ساتھ ایک پنجرہ لے کر آیا اس میں ایک چھوٹی سی چڑیا بند تھی۔کمرے میں پہنچ کر اس نے کلاس روم کی تمام کھڑکی اور دروازے بند کردی اس کے بعد پنجرہ کھول دیا اور اس کے بعد اس نے کلاس کی کھڑکیاں کھولنی شروع کردیں۔چڑیاں ادھر ادھر اڑ رہی تھی دروازہ کھلتے ہی وہ باہر کی طرف نکل گئی اور پیڑ پر بیٹھ کر چہچہانے لگی۔اس کے بعد ہاشم نے کلاس کے سامنے کہا کہ کسی کی چھوٹی سی مدد کرنا بھی عبادت ہے۔آکسیجن،ٹھنڈا ٹھنڈا کول کول،بیکٹریا اور وائرس،اف۔۔۔یہ گرمی،مینڈک وغیرہ کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

کہانیوں  کے کرداروں میں تعمیری مثبت جذبہ

شاہ تاج کے افسانوں میں تعلیم،کتاب،اسکول اور بچوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔وہ باقاعدہ استاد تو نہیں ہیں لیکن انھو ں نے اپنے افسانوں میں جو دنیا خلق کی ہے وہ ایک طرح سے کلاس روم کی ہے مگر یہ روایتی کلاس روم نہیں ہے۔بلکہ انھوں نے فن پارے کو اس طرح مرتب کیا ہے کہ اس میں ایک فضا درس و تدریس کی پیدا ہوجاتی ہے۔جو بہت خوش گوار اور ہوتی ہے۔ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں صرف بچے شامل نہیں ہوتے بلکہ بہت سے مقامات پر وہ پورے گھر کو شامل کرلیتی ہیں۔ان کی کہانی کے کرداروں میں تعمیری مثبت جذبے کی فراوانی ہے۔

یہ رویہ مثالی سماج کی تشکیل میں مرکزی کردار کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے۔ان کے افسانوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی معلومات کو نہ صرف تازہ رکھتی ہیں بلکہ مطالعہ و مشاہدہ برابر جاری رکھتی ہیں اور شاید اسی وجہ سے اردو کے بیشتر رسالے اور اخبارات میں ان کی تحریریں شائع ہوتی ہیں۔شاہ تاج کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اردو میں سائنسی ادب کی جو بھی سرگرمیاں ہیں ان سے واقف رہتی ہیں۔ان کو مطالعہ میں رکھتی ہیں۔

اس حوالے سے جو شخصیات ہیں ان سے رابطے میں رہتی ہیں۔کسی بھی موضوع سے واقفیت ہونا ایک خوبی تو ہے لیکن اس بارے میں اپنے علم کو تازہ رکھنا زیادہ اہم کام ہے جو شاہ تاج نہایت سلیقے سے کرتی ہیں۔ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اردو کے موقر اداروں نے ان کی خدمات کا مختلف طرح سے اعتراف کیا اور انھیں اعزاز و انعام سے نوازا۔ان میں  مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ 2020 (اردو صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ریاستی سطح کا اعزاز) رونق نعیم ایوارڈ 2022(مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی جانب سے کتاب سین سے سائنس پر)،مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ(2021 کتاب پکنک پر)، اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ (2021 کتاب پکنک پر اعزاز)اہمیت کے حامل ہیں۔

اس طرح کے لوگ اپنے کاموں اور کارناموں سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔