آرٹیکل 370 کےخاتمے کے ساتھ ہوا جموں و کشمیر میں خواتین مخالف وراثت کے نظام کا کام تمام

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 9 Months ago
آرٹیکل 370 کےخاتمے کے ساتھ  ہوا جموں و کشمیر میں خواتین مخالف وراثت کے نظام کا کام تمام
آرٹیکل 370 کےخاتمے کے ساتھ ہوا جموں و کشمیر میں خواتین مخالف وراثت کے نظام کا کام تمام

 

آشا کھوسہ/نئی دہلی

یہ بات ناقابل یقین لگ سکتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی مسلم خواتین کو 16 سال پہلے تک وراثتی حقوق حاصل نہیں تھے۔

والدین کی جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ان کے مرد رشتہ داروں کی خواہشات پر چھوڑ دیا دیا جاتا تھا اور زیادہ تر معاملات میں یہ مرد وارث کے قبضے میں چلی جاتی تھی۔ ایک عورت کی خواہشات اور تمنائیں ایک خفیہ راز ہی رہ جاتی تھیں،کیونکہ لڑکیوں کو یہ خوف رہتا تھا کہ انہیں "لالچی بہن" ہونے کی وجہ سے معاشرے کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے۔

خواتین کی وراثت مقامی روایات کے مطابق طے پاتی تھی ، ملکیت میں یہ دولت اور جائیداد کی تقسیم خاندانوں کی مردانہ ترجیح کو برقرار رکھنے پر ختم ہوئی تھی،لیکن ریاست کے آئین کی ان دفعات کے تحت جنہیں بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔

برابری کے بارے میں تو بھول جائیں، وراثت سے متعلق قرآنی آیات جو بیٹیوں کو والدین کی جائیداد کا ایک تہائی حصہ دینے کا حکم دیتی ہیں اس پر عمل نہیں ہوتا ہے حالانکہ ان احکام کی خلاف ورزی کو غیر اسلامی اور گناہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ صرف 2007 میں غلام نبی آزاد کے وزارت اعلیٰ کے دور میں ہوا کہ وراثت سے متعلق شریعت پر مبنی قانون جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قانون کی پہل جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل کی شکل میں سامنے آئی۔ پرائیویٹ ممبرز کا بل شاذ و نادر ہی ہندوستانی لیجسلیچر میں قانون بنتا ہے کیونکہ قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔

بل جو بالآخر جموں و کشمیرمسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 2007 بن گیا، صوتی ووٹ سے منظور گیا تھا۔ تمام پارٹیوں کے ممبران نے مسلم خواتین کے ساتھ طویل عرصے سے ہونے والی ناانصافیوں اور خواتین کے وراثتی حقوق کے بارے میں بات کی۔

اس کے ساتھ آرٹیکل 35اے کی دفعات بھی شامل ہیں جو تب سے ختم کر دی گئی ہیں۔ اس خاص شق کو جموں و کشمیر کے حکمرانوں نے جموں و کشمیر کی خواتین  کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جنہوں نے غیر جموں و کشمیر کے ہندوستانیوں یا غیر ملکیوں سے شادی کی تھی۔

awazurdu

لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمہ سے قبل وہ خواتین جنہوں نے غیر ریاستی مردوں سے شادی کی ہے جائیداد کی وارث یا مالک نہیں ہوسکتی تھیں۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد، سپریم کورٹ نے انہیں جائیداد کی وراثت کا حق دیا لیکن پھر بھی ان کے پاس یہ حق نہیں تھا کہ وہ غیر کشمیری کے ساتھ شادی سے پیدا ہونے والے اپنے بچوں کو اپنا حق دے دیں۔

اس دوہرے معیار نے ایسی خواتین کو آبائی یا کسی جائیداد کی ملکیت سے محروم کردیا تھا۔ دراصل یہ صنفی امتیاز کی ایک ڈھٹائی کی شکل تھی۔ تاہم، جیسا کہ کشمیر میں ہوا، شورش اور سیاسی بدامنی کی وجہ سے، تمام اہم صنفی مسائل کو پس پردہ ڈال دیا گیا تھا اور سازش کے تحت خاموشی اختیار کرلی گئی تھی ۔

اس طرح جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور سابق ریاست کو ملک کے باقی حصوں کے برابر لانے سے نہ صرف متعدد برادریوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم ہوا ہے۔ بلکہ  شیڈ یول کاسٹ ، جنگی پناہ گزین، مغربی پاکستان کے مہاجرین، اندرونی طور پر بے گھر ہندوستانیوں کے ساتھ خواتین کو دیگر ہندوستانی خواتین کی طرح حقوق حاصل کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کوجموں و کشمیر میں بڑی تبدیلیوںکے تحت ریاست کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہوا، دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کے شہریوں کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

وہ تمام لوگ جو سابق ریاست سے تعلق رکھتے تھے اور کچھ دوسرے زمرے کے لوگ اب ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینے والے ہیں۔ اس میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے باہر کے لوگوں سے شادی کرنے کے بعد اپنی پی آر سی  کی حیثیت کھو دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً چار لاکھ لوگوں نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کیے ہیں اور ان میں سے کشمیر ڈویژن میں صرف 80,000 درخواست دہندگان ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے 2 سے 3 فیصد کے درمیان وہ خواتین ہوں گی جن کی شادی جموں و کشمیر سے باہر ہوگی۔

بہت سی کشمیری خواتین ہیں جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے ہنگاموں کے دوران دیگر ریاستوں کے لوگوں سے شادی کی۔ سب سے پہلے بہت سے والدین نے اپنی بیٹیوں کی شادی غیر مقامی لوگوں کے ساتھ کرنا زیادہ محفوظ سمجھا کیونکہ کشمیر میں روایتی طریقے سے آنے والے رشتے میں یہ خطرہ محسوس کیا تھا کہ کہیں لڑکے کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم یا سرگرمیوں سے نہ ہو ۔

ایسی زیادہ تر کشمیری لڑکیاں "کشمیر کی بیٹیوں" کے طور پر اپنی شناخت اور حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہیں۔