These dietary mistakes during Ramadan prove costly.

رمضان کے دوران لوگ اکثر کھانے پینے سے متعلق کچھ غلطیاں دہرا دیتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

روزے میں پورا دن بھوکا رہنے کے بعد جب شام کو افطاری کی جاتی ہے تو بعض لوگ حد سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔ زیادہ تلی ہوئی چیزیں، سموسے اور میٹھا کھانے سے تیزابیت، گیس اور بدہضمی جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

روزے کے دوران پانی نہیں پیا جاتا، لیکن افطار سے سحری کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پینا بہت ضروری ہے۔ بھوکا اور پیاسا رہنے سے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) ہو سکتی ہے۔ افطار سے سحری کے درمیان 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے۔

کچھ لوگ نیند کی وجہ سے سحری نہیں کرتے، جو رمضان کے دوران کی جانے والی ایک بڑی غلطی ہے۔ سحری نہ کرنے کی صورت میں پورا دن خالی پیٹ رہنے سے سر درد اور دیگر صحت کے مسائل ہو سکتے ہیں۔

روزہ رکھنے کے بعد افطار میں کھانے پینے کی کئی لذیذ چیزیں پیش کی جاتی ہیں، جن میں تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء زیادہ ہوتی ہیں۔ بعض افراد حد سے زیادہ تلا بھنا اور میٹھا کھا لیتے ہیں، جس سے معدے میں بھاری پن، بدہضمی اور ہاضمے سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

کچھ لوگ رمضان میں اپنے جم یا ورزش کے معمولات مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں، حتیٰ کہ ہلکی چہل قدمی سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ حالانکہ ہلکی سیر یا اسٹریچنگ کرنا صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

نمکین اور پروسیسڈ غذاؤں میں عموماً نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی چیزیں کھانے سے پیاس زیادہ لگتی ہے اور پورے مہینے جسم کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے نمک کا استعمال کم کرنا چاہیے۔

Kohinoor

click here to new story