The Obligation of Fasting
روزے کی فرضیت قرآنِ مجید سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر روزے کو فرض قرار دیا ہے۔ یہ حکم تمام بالغ، عاقل اور صحت مند مسلمانوں کے لیے ہے۔
روزے 2 ہجری میں مسلمانوں پر فرض کیے گئے۔اس کے بعد سے ہر سال رمضان میں روزے رکھے جاتے ہیں۔یہ حکم امتِ مسلمہ کے لیے دائمی ہے۔
روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ ہے۔ قرآن کے مطابق روزے کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ تقویٰ کا مطلب اللہ کا خوف اور گناہوں سے بچنا ہے۔
روزہ نفس پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔ بھوک اور پیاس برداشت کرنا ضبطِ نفس سکھاتا ہے۔ انسان حلال چیزوں سے بھی وقتی رکنا سیکھتا ہے۔
روزہ اخلاقی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں۔جھوٹ، غیبت اور بدزبانی سے بچنا بھی ضروری ہے۔ یوں روزہ کردار سازی کا عمل بنتا ہے۔
روزہ صبر اور برداشت سکھاتا ہے۔ بھوک، پیاس اور تھکن کے باوجود عبادت صبر پیدا کرتی ہے۔ روزہ دار غصے پر قابو رکھنا سیکھتا ہے۔ یہ صبر زندگی کے ہر پہلو میں فائدہ دیتا ہے۔
روزہ انسان میں شکرگزاری پیدا کرتا ہے۔ کھانے اور پانی کی قدر روزے کے ذریعے محسوس ہوتی ہے۔ انسان اللہ کی نعمتوں کو پہچانتا ہے۔ یہ احساس شکر کو مضبوط کرتا ہے۔
روزہ سماجی ہمدردی کو بڑھاتا ہے۔ روزے سے غریبوں کی بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ یوں معاشرے میں ہمدردی بڑھتی ہے۔
روزہ روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ روزہ دل اور روح کو پاک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ انسان کو گناہوں سے توبہ کی طرف لاتا ہے۔
روزہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
The unique love story of Swara Bhaskar and Fahad Ahmed