پاکستان : میلاد النبی کے جلوس میں ’حور‘ دکھانے پر تنازعہ

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2021
پاکستان :  میلاد النبی کے جلوس میں ’حور‘ دکھانے پر تنازعہ
پاکستان : میلاد النبی کے جلوس میں ’حور‘ دکھانے پر تنازعہ

 

 

ملتان : تنازعات کی سرزمین ہے پاکستان۔ خاص طور پر مذہب کے نام پر تنازعات نے پاکستان کو الجھا دیا ہے۔ اب ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ جس کا تعلق ایک ’حور ‘ سے ہے۔ جی ہاں! پاکستان کی سڑکوں پر ایک حور نظر آئی تو ایک تنازعہ پیدا ہوگیا۔ در اصل پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے پیغمبر اسلام کی ولادت کے موقعے پر ملتان میں خاتون کو ’حور‘ کے طور پر پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کے دوران اس معاملے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ارکان کا کہنا تھا کہ ’اسلام میں خواتین کو ایسے حور بنا کر پیش کرنا انتہائی غلط اقدام ہے۔ واضح رہے کہ اس ماہ کی 19 تاریخ کو پیغمبر اسلام کی ولادت کی مناسبت سے 12 ربیع الاول کے دن ملتان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں ایک خاتون کو سفید لباس پہنے سٹیج پر بیٹھے دیکھا جا سکتا تھا۔

اس ویڈیو کے ساتھ تحریر میں لکھا گیا تھا ملتان میں خاتون کو ’حور‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نے سر پر تاج بھی پہن رکھا ہے اور ان کے اردگرد بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ویڈیو میں اس ’حور‘ نے سفید لباس پہن رکھا ہے اور اسے ایک سٹیج پر بٹھایا گیا ہے۔

یہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور ان کی جانب سے بھی برہمی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

— Kehkashan Bukhari (@kehkashan_) October 22, 2021

اسلام آباد میں بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے بات ہوئی اور ارکان نے کہا کہ ’ربیع الاول ہو یا کوئی مذہبی عقائد، غیر ضروری دکھاوے سے روکنے کے لیے لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مذہبی رسومات میں بازاری طرز کے اقدامات کی شدید مخالفت کرنی چاہیے۔

اس کے علاوہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس میں نعت خوانی، مرثیہ، قصیدے اور نوحوں کی گانوں کی طرز پر پیش کرنے کی بھی سختی مخالف کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ’مذہبی رسومات کی ادائیگی یا مذہبی عقائد کی ادائیگی کے موقع پر ایک معیار مقرر کیا جائے۔‘