حجاجِ کرام کا منیٰ واپس پہنچنا شروع

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | Date 20-07-2021
شیطان کی رمی
شیطان کی رمی

 

 

مکہ :منی میں پہلی رمی اور احرام اتارنے کے بعد حجاج نے قربانی کی ہے جس کے ساتھ ہی اس سال کا حج احتتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔

گزشتہ روز حجاجِ کرام مزدلفہ میں کچھ دیر قیام کے بعد منیٰ واپس پہنچنا شروع ہوگئے جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ میں رمی جمرات کے دوران سات سات کنکریاں ماریں۔

سعودی وزارت حج کی جانب سے حجاج کو پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند، جراثیم سے پاک کنکریاں فراہم کی جارہی ہیں۔ خصوصی انتظامات کے تحت رمی جمرات کےلئے علاوہ ازیں، شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے دوران بھی سماجی فاصلے سمیت دیگر احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جارہا ہے،

عازمینِ حج کی ایک سے دوسرے مقدس مقام تک نقل وحرکت کےلیے ایک جامع و مربوط منصوبہ مرتب کیا گیا تھا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام حجاج کرام نظم و ضبط سے مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔جمرہ عقبہ میں، جسے ’’جمرہ کبریٰ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، عازمینِ حج احرام کی حالت میں رمی کرتے ہیں یعنی شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔رمی جمرات کا عمل طلوع آفتاب سے عیدالاضحیٰ کے پہلے دن (10 ذوالحجہ کو) سنت کے مطابق زوالِ آفتاب یعنی نمازِ ظہر سے پہلے تک جاری رہتا ہے۔حجاجِ کرام اس کے بعد قربانی کرتے ہیں، احرام اتارتے ہیں اور بال کٹواتے ہیں۔ایام تشریق کے دن 11، 12 اور 13 ذی الحج تک عازمینِ حج منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔

اور اس دوران وہ تین بار رمی جمرات کرتے ہیں۔ جمرہ اولیٰ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ کبریٰ کے دوران شیطانوں پر سات سات کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔

دوسری جانب دنیا کے کئی ممالک میں مسلمان عیدالاضحی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منا رہے ہیں۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے مسلم ممالک کی قیادت کے ساتھ عید کی مبارکباد کا تبادلہ کیا ہے۔

مزدلفہ میں تقریباً چھ گھنٹے قیام کے بعد عازمین حج کو پیر کی درمیانی شب منیٰ پہنچا دیا گیا۔ عازمین کو منیٰ پہنچانے کے لیے ایک ہزار 700 بسیں استعمال کی گئی۔عیدالاضحی کے پہلے دن حجاج سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) کی رمی کررہے ہیں پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف افاضہ کیا۔

 رمی کے بعد حجاج منی میں اپنا وقت عبادت میں گزاریں گے۔ سعودی حکام نے حاجیوں کی سلامتی کے لیے تمام ترانتظامات کر رکھے ہیں۔قبل ازیں حجاج کے قافلے نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کرکے غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچے تھے۔کے قافلے سورج غروب ہونے کے بعد نماز مغر ب ادا کیے بغیر میدان عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے۔

 

 حجاج نے مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں ایک اذان دو اقامت سے سماجی فاصلے کے تحت ادا کیں اور رات کا باقی ماندہ حصہ عبادت میں گزارا۔ وزارت حج و عمرہ نے مزدلفہ میں رات گزارنے کے لیے آرام گاہوں کا انتظام کیا تھا۔

جہاں سماجی فاصلے کی پابندی تھی۔ مزدلفہ تین بڑے حج مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ منی اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔حجاج یہاں فجر تک قیام کرتے ہیں اور رمی جمرات (علامتی شیطانوں کو کنکریاں مارنا) کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں تاہم احتیاطی تدابیر کے پیش نظر حجاج کو سینیٹائز کی گئی کنکریاں فراہم کی گئی ہیں۔

 وقوف عرفہ اور مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد حجاج منگل کی صبح منی پہنچ کر رمی کررہے ہیں۔ جمرات کی رمی جسے عرف عام میں شیطانوں کو کنکریاں مارنا کہا جاتا ہے، حج کے اہم مناسک میں سے ایک ہے۔

 رمی کو آسان اور محفوظ بنانے کےلیے جمرات کمپلکں بنایا گیا ہے جو 950 میٹر طویل ہے۔ اس کا عرض 80 میٹر ہے اوریہ 4 منزلہ ہے۔ مستقبل میں کمپلکس کی 12 منزلیں اٹھائی جاسکتی ہیں، جس سے 50 لاکھ حاجی بیک وقت رمی کرسکیں گے۔

 جمرات کے ستون 60 میٹر اونچے ہیں،یہ ستون بیضوی شکل کے ہیں۔

 جمرات کمپلکس کی تعمیر میں ایک اور بات کا اہتمام کیا گیا ہے، وہ یہ کہ تمام حجاج کو ایک ساتھ، جمرات پل کے کسی ایک راستے پر جمع ہونے سے روکا جائے۔ اسی لیے کئی راستے بنائے گئے ہیں۔ جمرات کے پل کو مشاعر مقدسہ ٹرین سے بھی مربوط کردیا گیا ہے تاکہ حجاج رمی کے بعد ٹرین کے ذریعے اپنی مطلوبہ منزل تک باآسانی پہنچ سکیں۔